کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 79
کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام خطبوں کا افتتاح اللہ تعالیٰ کی حمد سے کیا کرتے تھے اور کسی ایک حدیث میں بھی یہ ثابت نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کے خطبوں کا افتتاح تکبیر سے کیا ہو۔ جو روایت سنن ابن ماجہ میں مؤذنِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے دوران اور عیدین کے خطبوں کے دوران بکثرت تکبیر کہتے تھے۔ اس روایت سے یہ دلیل نہیں ملتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کا افتتاح بھی تکبیر ات سے فرماتے ہوں۔[1] علامہ موصوف نے ابن ماجہ کی جس حدیث کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ سنن ابن ماجہ کے علاوہ سنن بیہقی و مستدرک حاکم میں بھی مروی ہے لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔[2] لہٰذا افتتاح تو کیا دورانِ خطبہ تکبیر کہنے کا سنت ہونا بھی ثابت نہیں ہوتا۔[3] امام تقی الدین ابن قدامہ نے لکھا ہے کہ خطبۂ عیدین و استسقاء کے افتتاح کے سلسلے میں بعض فقہاء نے کہا ہے کہ ان سب کا افتتاح تکبیرات سے کیا جائے۔ بعض کہتے ہیں کہ استسقاء کا خطبہ استغفار سے کیا جائے اور بعض دیگر کا قول ہے کہ حمدِ باری تعالیٰ سے کیا جائے۔ پھر امام ابن قدامہ نے اپنی طرف سے فیصلہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ حمد سے آغاز کرنا ہی صحیح و صواب ہے کیونکہ یہی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام خطبوں کا آغاز حمد ہی سے کیا کرتے تھے۔ تکبیر و استغفار سے افتتاح کا کہنے والوں کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔[4] [1] زاد المعاد (۱/ ۴۴۷) [2] دیکھیں: إرواء الغلیل (۳/ ۱۱۹، ۱۲۰) [3] تمام المنۃ (ص: ۳۵۱) [4] فقہ السنۃ (۱/ ۳۲۲)