کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 24
میں ہی شریک ہوتے ہیں تاکہ اپنے آپ کو میت کے پسماندگان کے شرکائِ غم میں سے ثابت کرسکیں۔ اس کے علاوہ انھیں قَسم ہے جو کوئی دوسری نماز ’’چکھ‘‘ پائیں۔ 5۔ ٹھاٹھ کے نمازی: نمازیوں کی ان چاروں غیر مطلوبہ قسموں کے بعد پانچویں اور مطلوبہ قسم آتی ہے جنہیں ’’ٹھاٹھ کے نمازی‘‘ کہیے جو نماز پنجگانہ کی پوری پابندی کرتے ہیں اور جنھیں عام طور پر پابند صوم و صلاۃ کہا جاتا ہے۔[1] اسلام میں دراصل انھیں لوگوں کو اصل مقام حاصل ہے۔ انھیں چھوڑ کر پہلی چاروں قسم کے نمازیوں کے بارے میں ہم کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کی خدمت میں صرف اتنی التماس ہے کہ صاحبو! اسلام کے نظامِ عبادت میں اس قسم کے نمازیوں کا تو کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا، لہٰذا ع آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی 2۔اخلاقی و روحانی تربیت: ثمراتِ رمضان ہی میں سے یہ بھی ہے کہ جس طرح روزے کی حالت میں ہم پورا مہینہ اپنی آنکھوں، کانوں اور زبان کو فواحش و منکرات سے بچائے رکھتے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کے قواعد و ضوابط کی پابندی نہ کرنے والے کے روزے کو ’’محض بھوک اور پیاس‘‘ قرار دیا ہے، جس کی اللہ کو کوئی ضرورت نہیں۔ جیسا کہ صحیحین، سنن ابو داود و نسائی اور موطا امام مالک میں ارشاد نبوی ہے: [1] بحوالہ روزنامہ ’’جنگ‘‘ لاہور