کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 211
میں اور ادارہ اوقاف دبئی کی طرف سے شائع ہونے والے عربی ماہنامہ ’’الضیاء‘‘ نے سعودی خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس سال منیٰ میں جدید ذبح خانہ کا اضافہ کیا گیا ہے جو پانچ ہزار مربع میٹر پر مشتمل ہے، جس کی پوری عمارت ایئر کنڈیشنڈ ہے۔ اس میں ذبح کرنے، کھالیں اتار کے گوشت کو صاف کرنے اور منجمد کرنے کے لیے دنیا کے جدید ترین آلات و وسائل کا اہتمام کیا گیا ہے جس کا عملہ بارہ سو (۱۲۰۰) افراد پر مشتمل ہے۔ اس ذبح خانہ میں پہلے ہی سال ایک لاکھ بیس ہزار جانوروں کا گوشت منجمد کیا گیا جسے بعد ازاں دوسرے ممالک میں پہنچایا گیا۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کو وسعت دے کر منیٰ میں ہونے والی تمام تر قربانیوں کے تمام اجزاء کو کام میں لایا جائے گا۔ ایک سعودی روزنامہ ’’الجزیرہ‘‘ نے اپنے شمارہ نمبر ۵۴۱۹ بابت جمعہ ۶؍ذوالحجہ ۱۴۰۷ ھ بمطابق ۳۱؍ جولائی ۱۹۸۷ء کے صفحہ (۷) پر قربانیوں کے گوشت کے بارے میں لکھا ہے کہ اس سال کرۂ ارض کے بیس سے زیادہ اسلامی ممالک تک یہ گوشت پہنچایا جارہاہے۔
اسی طرح ایک سعودی روزنامے کی ہفتہ وار اشاعت ’’الاربعاء‘‘ شمارہ نمبر (۳۲) اور اسلامک بنک دبئی کے علمی و اقتصادی میگزین ماہنامہ ’’الاقتصاد الاسلامی‘‘ شمارہ نمبر (۲۵) میں بھی بڑی طویل و مفید تجاویز اور منصوبوں کی رپورٹیں درج ہیں جس کے زیر عمل آجانے پر قربانیوں کی اون کا ایک بال بھی ضائع نہیں جائے گا اور توقع ہے کہ کھالوں، ہڈیوں اور گوشت وغیرہ سے مجموعی نفع بھی اتناہی ہوجائے گا جو اصل جانور کی قیمت کے لگ بھگ ہوتا یا اپنے بعض افادی پہلوؤں کی وجہ سے اصل قیمت سے بھی یہ فائدہ بڑھ جائے گا۔ جب