کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 210
ہے، اس نے اپنی ۱۶ ذو القعدہ ۱۴۰۳ھ اردو اشاعت میں مکہ مکرمہ کے میئر فواد محمد عمر کے حوالے سے لکھا تھا کہ اس سال حج کے دوران میں پہلی مرتبہ قربانی کے جانوروں کا گوشت اسلامی ترقیاتی بنک کے ذریعہ غریب اسلامی ممالک کو برآمد کیا جائے گا جس کا مقصد قربانی کے گوشت سے لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے، اس غرض کے لیے مختلف ممالک کو باقاعدہ گوشت بھیجنے کا سلسلہ شروع ہے۔ اسی اخبار ’’المدینہ‘‘ کی ۴ ذوالقعدہ ۱۴۰۴ھ کی اردو اشاعت میں یہ رپورٹ شائع کی گئی کہ سعودی ائیر لائنیں اور پی آئی اے کے مابین ایک معاہدہ طے پایا ہے جس کے تحت پی آئی اے کارگو کی بارہ پروازوں کے ذریعہ قربانی کا یخ بستہ یا فروزن گوشت افغان مہاجرین کے لیے پاکستان پہنچایا جائے گا۔ (بحوالہ ماہنامہ آثار، جلد دوم، شمارہ ۹، مقالہ مولانا جھنڈا نگری) دبئی سے شائع ہونے والے پرچہ ’’الاصلاح‘‘نے محرم ۱۴۰۶ھ بمطابق ستمبر ۱۹۸۵ء کی اشاعت نمبر (۹۲) میں اسلامی ترقیاتی بنک کے حوالے سے لکھا تھا کہ اس نے اس سال قربانی کے تین لاکھ جانوروں کا فروزن گوشت بورکینا، فاسو، مالی، موریطانیہ، چاڈ، بنگلہ دیش ،اردن اور یمن میں پہنچایا ہے۔ اسی طرح سعودی روزنامہ ’’الجزیرہ‘‘ کی ۱۸؍ ستمبر ۱۹۸۶ء بمطابق ۱۴؍ محرم ۱۴۰۷ھ بروز جمعرات کی اشاعت نمبر ۵۱۰۳ میں بری، بحری اور ہوائی راستوں سے لاکھوں جانوروں کا گوشت مختلف ممالک میں پہنچائے جانے کی ملک وار تفصیل مذکور ہے، اوپر جن ممالک کے نام ذکر ہوئے ہیں ان کے علاوہ مصر ، سوڈان، سینیگال، زامبیا، جیبوتی، سوریا اور پاکستان کے نام بھی اس گوشت سے استفادہ کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔ روزنامہ اخبار ’’المدینہ‘‘ اپنی ۲۹؍ ذوا لقعدہ ۱۴۰۳ ھ کی اردو اشاعت