کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 203
کے طور پر یہ جائز نہیں ہے۔ اسی قسم کی تصریحات ’’البدائع و الصنائع‘‘ للعلامۃ کاساني (۵/ ۶۶) اور ’’المبسوط‘‘ للسرخسي (۱۲/ ۱۳) میں بھی موجود ہیں۔ فتاوی ہندیہ (عالمگیری: ۴/ ۵۱) میں بڑے واضح الفاظ میں لکھا ہے: ’’شِرَائُ الْاَضْحِیَۃِ بِعَشْرَۃِ دَرَاہِمَ خَیْرٌ مِنَ التَّصَدُّقِ بِاَلْفِ دِرْہَمٍ‘‘ ’’دس درہم کا جانور خرید کر قربانی دینا، ہزار درہم نقد صدقہ کرنے سے بہتر و افضل ہے۔‘‘ (دیکھیں: الاعتصام، عید نمبر ۸۶ء صفحہ نمبر ۳۶۔ ۳۷ و عید نمبر ۸۷ء صفحہ نمبر ۱۴۔ ۱۷، مقالہ از مولانا سید محمد داود غزنوی رحمہ اللہ ) آگے آگے دیکھیے: غریبوں کے غم میں گھلنے کا بناوٹی مظاہرہ کرنے والوں کو یہ امور سامنے رکھ کر کوئی اقدام کرنا چاہیے اور مسلمانوں کو قربانی کی بجائے نقد رقم صدقہ کرکے ’’ترکِ سنت‘‘ کا مشورہ دینے کی بجائے کوئی اور سکیم زیر عمل لانے کی سوچنی چاہیے کیونکہ قومی و سماجی اداروں کو چلانے، غریبوں کا پیٹ پالنے اور غریب لڑکیوں کے ہاتھ پیلے کرنے کے بہانے مشروع اعمال کو بیچ کھانے اور ان کی قیمتیں لگانے کا یہ سلسلہ جاری ہوگیا اور کج فہمی کا یہی عالم رہا اور قربانی جیسی عبادت کو ’’ضیاعِ اموال‘‘ کا باعث قرار دیا جانے لگا تو پھر کوئی عبادت بھی ایسے لوگوں سے نہیں بچ پائے گی۔ مثلاً کل کلاں کو یہ کج فکر لوگ یہ سوچنا بھی شروع کردیں گے کہ ہر دن میں مسلمان پانچ مرتبہ نماز پڑھتے ہیں اور ہر نماز پر اتنا وقت صرف ہوتا ہے۔ اگر ایک بستی یا شہر کے لوگ اتنا وقت کسی صنعت کاری میں لگائیں تو اتنا معاشی فائدہ ہوگا!! پھر حج پر نظر جائے گی کہ محض ایک گھر کو دیکھنے کے لیے کروڑوں روپے