کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 200
کا اعتراف کرلیں کہ اسلام کایہ دعوی غلط ہے کہ وہ ’’دین کامل‘‘ ہے، بلکہ یہ ہماری معاشیات کے لیے مضر اور اقتصادیات کے لیے نقصان دہ ہے جو دین اسلام کی نسبت انتہائی غیر ذمہ دارانہ بلکہ جاہلانہ و کورانہ نظریہ ہے، کیونکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام ایک مکمل اور عالمگیر ہے، اگر اس کے معاشی و اقتصادی مبادیات اور اصولوں پر عمل کیا جائے تو آج بھی دنیا کی گرتی ہوئی معاشی حالت کو سہارا مل سکتا ہے۔ پھر جانوروں کی قلت کا بہانہ تو قربانی نہ کرنے کی بڑی ہی بودہ دلیل ہے جسے ’’عذرلنگ را بہانہ بسیار‘‘ کا مصداق ہی کہا جا سکتا ہے کیونکہ ہزاروں سالوں سے یہ عمل پیہم اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر اس سے قلت رونما ہونا ہوتی تو کب کی ہو چکی ہوتی مگر ایسا ہر گز نہیں ہوا۔ ایام قربانی میں ذبح ہونے والے جانوروں کے مبالغہ آمیز اعداد و شمار دیتے ہوئے یہ بات بھی پیش نظر رکھنی چاہیے کہ مسلم ممالک میں ان تین چار دنوں میں عام طور پر ذبح خانے تقریباً بند رہتے ہیں اور عید سے کئی دن قبل اور پھر بعد میں بھی ذبیحہ کی رفتار خاصی کم رہتی ہے۔ اگر اس طرح رونما ہونے والی جانوروں کی بچت کو کل میزان سے منہا کر لیا جائے تو پھر قربانی میں کیے جانے والے جانوروں کی تعداد خاصی حوصلہ افزا ہوجائے گی اور اس کے اعداد و شمار ہوشربا نظر نہیں آئیں گے۔ مویشیوں کی قلت کو دور کرنے کے لیے ان کی افزائش نسل کی چارہ سازی، مویشی فارموں کا قیام، مویشی پالنے والوں کی حوصلہ افزائی، چراگاہوں کی فراوانی اور سبزیات کی ترقی جیسے اقدامات کی فکر کرنا چاہیے۔ اسی طرح ذبیحہ پر مناسب ہفتہ وار پابندی عائد کی جائے تو یقینا قلت کی شکایت دور ہوسکتی ہے۔