کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 172
اندھا، کانا، بیمار ، لاغر: سنن اربعہ ، مسند احمد ، موطا امام مالک ،صحیح ابن حبان اور سنن بیہقی میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: (( إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰہ علیہ وسلم سُئِلَ مَا ذَا یُتَّقیٰ مِنَ الضَّحَایَا ؟ فَاَشَارَ بِیَدِہٖ فَقَالَ: اَرْبَعًا: اَلْعَرْجَائُ الْبَیِّنُ ظِلْعُہَا ، وَالْعَوْرَائُ الْبَیِّنُ عَوَرُہَا، وَ الْمَرِیْضَۃُ الْبَیِّنُ مَرَضُہَا، وَ الْعَجْفَائُ الَّتِيْ لَا تُنْقِيْ )) [1] ’’نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ قربانی و الے جانوروں میں کن عیوب سے بچنا ضروری ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک (کی انگلیوں) سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: چار عیوب سے، لنگڑا کہ جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو، کانا کہ جس کا کانا پن ظاہر ہو، بیمار کہ جس کی بیماری نمایاں ہو اور لاغر کمزور کہ جس کے جسم میں چربی اور ہڈی میں گودا نہ رہا ہو۔‘‘ کٹے ہوئے کان ، ٹوٹے ہوئے سینگ والے اور اندھے جانور: سنن اربعہ، مسند احمد، مستدرک حاکم اور سنن بیہقی میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: [1] اس حدیث کو مذکورین کے علاوہ دارمی (۲/ ۷۶، ۷۷) ابن الجارود (۴۸۱) ابن خزیمہ (۲۹۱۲) طحاوی (۴/ ۱۶۸) حاکم (۱/ ۴۶۸، ۴/ ۲۲۳) اور طیالسی (۱/ ۲۳۰) نے بھی روایت کیا ہے۔ یہ صحیح حدیث ہے، اس کو ترمذی، ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم، ذہبی اور نووی نے ’’المجموع‘‘ (۸/ ۳۹۹) میں اور البانی نے ’’إرواء الغلیل‘‘ (۱۱۴۸) میں صحیح قرار دیا ہے۔