کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 125
بھرکے روزوں کے برابر اور ہر رات کے قیام کا ثواب لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہے۔ یہ روایت سنن ترمذی و ابن ماجہ میں مروی ہے لیکن اسے خود امام ترمذی ہی نے ضعیف قرار دیا ہے۔[1] نوادراتِ سلف: شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ عشرہ ذوالحج افضل ہے یا عشرہ رمضان؟ تو انھوں نے فرمایا: عشرہ ذوالحج کے دن رمضان کے آخری عشرہ کے دنوں سے افضل ہیں۔ موصوف کے شاگرد رشید علامہ ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اگر کوئی صاحب عقل و خرد اس جواب پر غور کرے تو اسے شافی و کافی پائے گا کیونکہ (ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی رو سے) کوئی دن بھی ایسا نہیں جس میں کیا گیا کوئی عمل اس عشرئہ ذوالحج کے ایام میں کیے گئے عمل سے افضل ہو۔ پھر انھیں ایام میں یوم عرفہ ، یوم نحر اور یوم ترویہ جیسے فضیلت والے ایام بھی شامل ہیںجبکہ رمضان المبارک کے عشرئہ اخیرہ کی راتیں قیام کی راتیں ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان میں شب زندہ داری فرمایا کرتے تھے (اسی غرض سے اعتکاف کیا جاتا ہے) اور انھیں راتوں میں سے ایک رات (لیلۃ القدر) بھی ہے، جس کا ثواب ہزار مہینے کی عبادت سے بھی زیادہ ہے۔ کوئی شخص اس تفصیل کے سوا کوئی دوسرا جواب دے تو اس کے بس میں نہیں کہ کوئی دلیل بھی دے سکے۔ آگے چل کر شیخ الاسلام فرماتے ہیں: [1] اس حدیث کو ترمذی (۷۵۸) ابن ماجہ (۱۷۲۸) اور بغوی (۱۱۲۶) نے روایت کیا ہے۔ ابن عدی (۷/ ۲۳۔ ۲۵) نے بھی اس حدیث کا ابتدائی ٹکڑا روایت کیا ہے اور یہ ضعیف حدیث ہے، اس کو ترمذی اور بغوی نے ضعیف کہا ہے۔