کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 109
’’اے لوگو! آج وہ مبارک دن ہے کہ جس میں تمھاری دو عیدین جمع ہوگئی ہیں۔‘‘ صحیح بخاری کے الفاظ میں اس بات کی صراحت نہیں کہ وہ عید کون سی تھی؟ البتہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ وہ عیدالاضحی تھی۔[1] اسی طرح سنن ابو داود و نسائی میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے عہد میں جمعہ اور عید الفطر اکٹھے آگئے تو انھوں نے بھی (خطبۂ عید میں خوشی کا اظہارکرتے ہوئے) فرمایا: (( عِیْدَانِ اجْتَمَعَا فِيْ یَوْمٍ وَاحِدٍ )) [2] ’’ایک ہی دن میں دو عیدیں جمع ہوگئی ہیں۔‘‘ جمعہ کو عید کا نام بھی ان احادیث بالا کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عطا کیا ہوا ہے جیسا کہ عید و جمعہ کو دو عیدیں کہنے سے ظاہر ہے۔ ایسے ہی سنن کبری بیہقی میں بھی ایک حدیث میں ہے: (( مَعَاشِرَ الْمُسْلِمِیْنَ !ھٰذَا یَوْمٌ جَعَلَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَکُمْ عِیْدًا فَاغْتَسِلُوْا وَعَلَیْکُمْ بِالسِّوَاکِ )) [3] ’’اے مسلمانوں! اس (جمعہ کے) دن کو اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے یوم عید بنایا ہے لہٰذا تمھیں جمعہ کے دن غسل اور مسواک ضرور کرنا چاہیے۔‘‘ ان سب احادیث و آثار سے معلوم ہوا کہ عید و جمعہ کا اکٹھے ہوجانا باعثِ نحوست نہیں بلکہ ازدیاد مسرت کا موجب ہے اور اسے حکمرانوں کے لیے باعثِ [1] فتح الباری (۱۰/ ۶۴) [2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱۰۷۲) [3] سنن البیہقي (۳/ ۲۴۳)