کتاب: عیدین و قربانی فضیلت و اہمیت ، احکام و مسائل - صفحہ 107
جاتے ہیں اور وہ اسے باعثِ نحوست و مصیبت سمجھنے لگتے ہیں حالانکہ اچھے کام جتنے زیادہ ہوں گے خیر و برکت میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوگا نہ کہ قوموں اور حکمرانوں کے لیے باعثِ زوال!! یہ سب لایعنی عقائد اور فضول قسم کے نظریات ہیں جو تعلیماتِ دین سے ناآشنائی اور جہالت کا نتیجہ ہیں۔ اس سلسلے میں ہمارے فاضل دوست جناب مولانا محمود احمد میرپوری رحمہ اللہ نے بھی ایک قاری کے سوال پر بڑا جچا تلا جواب لکھاتھا، ہم نے بھی یہاں اس سے استفادہ کیا ہے۔[1] دین میں اس افواہ کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا بلکہ اس کے بر عکس خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مسعود میں جمعہ اور عید ایک ساتھ آئے، جیسا کہ سنن ابو داود و نسائی و ابن ماجہ و صحیح ابن خزیمہ و سنن بیہقی و مسند احمد اور مستدرک حاکم میں حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: (( وَسَأَلَہٗ مُعَاوِیَۃُ: ھَلْ شَھِدْتَ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰہ عليه وسلم عِیْدَیْنِ إِجْتَمَعَا؟ قَالَ: نَعَمْ، صَلَّی الْعِیْدَ اَوَّلَ النَّھَارِ ثُمَّ رَخَّصَ فِي الْجُمُعَۃِ )) [2] ’’ان سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے ایسا پایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مسعود میں کبھی دو عیدیں (عید و جمعہ) اکٹھے ہوئے ہوں؟ انھوں نے کہا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دن کے شروع میں نماز عید پڑھائی اور جمعہ کی رخصت دے دی۔‘‘ [1] دیکھیں: صراط مستقیم، برمنگھم، (ج: ۱۰، ش ۱۲) [2] مسند أحمد (۴/ ۳۷۲) سنن أبي داود، رقم الحدیث (۱/ ۴۵۹) سنن الدارمي (۱/ ۴۵۹)