کتاب: الدروس المہمۃ کی شرح کا اردو ترجمہ دروس ابن باز - صفحہ 75
لا إلہ إلا اللّٰہ ‘‘ کا مدلول بھی ہے۔ پس اللہ کے سوا کسی کو نہ پکارے؛ اوراللہ کے علاوہ کسی سے مشکل کشائی نہ چاہے؛ اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی پر توکل کرے؛ ذبح کرے تو صرف اللہ کے لیے؛ نذر مانے تو صرف اللہ کے لیے۔ اور دعا میں اپنے ہاتھ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پھیلائے۔ جو کوئی اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کرتا ہے: یارسول اللہ مدد ؛ یا فلاں مدد ؛ اصل میں اس انسان کو ایمان کی حقیقت کا پتہ ہی نہیں ۔ اور نہ ہی انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی دعوت کی حقیقت کا پتہ ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا فرمان گرامی ہے: ﴿قُلْ اِنَّ صَلَاتِيْ وَنُسُكِيْ وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِيْ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، لَا شَرِيْكَ لَہٗ ، وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ ، ﴾ [٦:١٦٣] ’’آپ فرمادیں : بیشک میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہان کا رب ہے؛اس کا کوئی شریک نہیں ، مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی توحید کا حکم دیا ہے؛ اور اپنی ساری زندگی اسی توحید و اخلاص کی طرف دعوت میں صرف کر دی۔ آپ کا فرمان ہے: ((إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلْ اللّٰهَ وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ يَنْفَعُوکَ بِشَيءٍ لَمْ يَنْفَعُوکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰهُ لَکَ وَلَوْ اجْتَمَعُوا عَلَی أَنْ يَضُرُّوکَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوکَ إِلَّا بِشَيْءٍ قَدْ کَتَبَہُ اللّٰهُ عَلَيْکَ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ وَجَفَّتْ الصُّحُفُ )) ’’ جب مانگو تو اللہ تعالیٰ سے مانگو اور اگر مدد طلب کرو تو صرف اسی سے مدد طلب کرو اور جان لو کہ اگر پوری امت اس بات پر متفق ہوجائے کہ تمہیں کسی چیز میں فائدہ پہنچائیں تو وہ فائدہ نہیں پہنچا سکتے مگر صرف اتنا ہی جتنا اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے لکھ دیا ہے اور اگر تمہیں نقصان پہنچانے پر اتفاق کرلیں تو ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہ جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لئے لکھ دیا۔ قلم اٹھا دیئے گئے اور صحیفے خشک ہوچکے۔‘‘[1] اللہ تبارک و تعالیٰ پر ایمان ان تین ارکان پر قائم ہوتا ہے۔ دین اسلام کو توحید کا دین کہا جاتا ہے؛ اس لیے اس کی بنیاد ربوبیت و الوہیت اور اسماء و صفات میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھنے پر قائم ہوتی ہے۔ اور کوئی انسان اللہ پر ایمان رکھنے والا نہیں ہوسکتا جب تک وہ ان امور پر ایمان نہ لائے اور ان کے حقائق اور ان تقاضوں کو پورا نہ کرے جو توحید و اخلاص میں مطلوب ہیں ۔  ٭٭٭ [1] یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ البانی نے اسے صحیح کہا ہے: صحیح الجامع 7956 ؛ دیکھیں : مسند احمد 2763 ؛ ترمذی 2516۔ عن ابن عباس۔