کتاب: الدروس المہمۃ کی شرح کا اردو ترجمہ دروس ابن باز - صفحہ 26
کھینچ رہے ہوں گے۔‘‘[مسلم 2842] وہاں لوگ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے اور اس کا مشاہدہ کریں گے۔‘‘  ثُمَّ لَتَرَوُنَّہَا عَيْنَ الْيَقِيْنِ ، :....’’پھر اس کو دیکھو گے آنکھوں کو یقین آ جائے گا ‘‘ یعنی تم اسے حقیقت میں اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے؛ یہ قیامت کے دن ہوگا۔ جب لوگ اللہ کی بارگاہ میں کھڑے ہوں گے۔  ثُمَّ لَتُسْئَلُنَّ يَوْمَىِٕذٍ عَنِ النَّعِيْمِ ، :....’’پھر اس روز تم سے (شکر) نعمت کے بارے میں پرسش ہو گی‘‘یعنی اللہ تعالیٰ بروز قیامت تم سے ان نعمتوں کے متعلق پوچھ گچھ کریں گے جو اس نے دنیا کی زندگی میں تم کو دی تھیں ۔اس میں مال کی نعمت بھی داخل ہے؛ اورصحت و عافیت اور اولاد اور سواری کی نعمت بھی؛ رہائش کی نعمت بھی۔ حتی کہ ٹھنڈے پانی کے متعلق بھی پوچھا جائے گا۔‘‘[1] سورت عصر بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ ﴿وَالْعَصْرِ ، اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِيْ خُسْرٍ ، اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ، ۙ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ، ﴾ ’’عصر کی قسم ! انسان نقصان میں ہے ۔مگر وہ لوگ نہیں جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے اور آپس میں حق (بات) کی تلقین اور صبر کی تاکید کرتے رہے۔‘‘ یہ انتہائی عظیم ؛مختصر؛ بلیغ اورجامع سورت ہے جس نے ہر قسم کی خیر وبھلائی کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں عصر (زمانے) کی قسم اٹھائی ہے؛ زمانہ جس میں دن اور رات بدلتے ہیں اور انسان اچھے اوربرے اعمال کرتے ہیں ۔ اِنَّ الْاِنْسَانَ:....بیشک جنس انسان (یعنی سارے لوگ) ﴿ لَفِيْ خُسْرٍ ، ﴾:یقینی گھاٹے میں ہے؛ سوائے ان کے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں مستثنیٰ قرار دیا ہے؛ اور وہ وہ لوگ ہیں جن میں چار صفات پائی جائیں :  اِلَّا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا:....’’مگر وہ لوگ جو ایمان لائے ‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ پر اور ان احکام پر جو اس نے بندوں کے لیے جاری کئے ہیں ۔اس آیت میں علم کی بات ہورہی ہے۔ اس لیے کہ علم اور بصیرت کی بغیر ایمان ناممکن ہے۔ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ :....’’اور نیک عمل کرتے رہے ‘‘ یعنی مختلف قسم کے نیکی کے کاموں سے اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرتے رہے۔اور اللہ کی رضامندی کی تلاش میں مختلف قسم کے نیک اعمال بجا لاتے رہے۔ ان کے اس ایمان اور نیک اعمال میں ان کے اپنے نفوس کی تکمیل ہے۔  وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ:....’’اور آپس میں حق کی تلقین کرتے رہے‘‘حق سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ دین ہے جسے اس نے اپنے [1] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’ قیامت کے دن سب سے پہلے بندے سے جن نعمتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا ، (وہ یہ ہیں ) اس سے کہا جائے گا : کیا میں نے تمہارے لیے تمہارے جسم کو تندرست اور ٹھیک ٹھاک نہ رکھا اور تمہیں ٹھنڈا پانی نہ پلاتا رہا ؟‘‘ امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے۔ قال الألبانی: صحيح ، الصحيحة ( 539) ، الترمذی(3358 )؛ الحاکم (7203) .