کتاب: الدروس المہمۃ کی شرح کا اردو ترجمہ دروس ابن باز - صفحہ 217
اٹھارہواں سبق: میت كی تجہیز ، تكفین ، جنازہ اور تدفین شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اٹھارواں سبق:’’ میت کی تجہیز و تکفین، جنازہ اور تدفین۔‘‘ اس کی تفصیل حسب ذیل ہے: اوّل:.... لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ کی تلقین:جب کسی شخص پر موت کے آثار ظاہر ہو جائیں تو مشروع یہ ہے کہ اسے ’’لَا اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ ‘‘ کی تلقین کرنی چاہیے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: ((لَقِّنُوْا مَوْتَاکُمْ لَا اِلٰہِ اِلاَّ اللّٰہُ)) (صحیح مسلم) ’’تم اپنے مرنے والوں کو ’’لَا اِلٰہِ اِلاَّ اللّٰہُ‘‘ کی تلقین کرو۔‘‘[1] حدیث میں مرنے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کی موت کا وقت آپہنچا ہو اور ان پر موت کے آثار ظاہر ہو چکے ہوں ۔ دوم:....مرنے والے کی آنکھیں بند کرنا:جب کسی کی موت کا یقین ہو جائے تو اس کی آنکھیں بند کر دی جائیں [2] اور اس کے جبڑے باندھ دیے جائیں ، کیونکہ اس کے بارے میں حدیث وارد ہے۔ سوم:....میت کو غسل دینا:مسلمان میت کو غسل دینا واجب ہے، لیکن اگر وہ جنگ میں شہید ہوا ہو تو اسے نہ غسل دیا جائے گا اور نہ اس پر جنازہ کی نماز پڑھی جائے گی۔بلکہ اسے انہی کپڑوں میں دفن کر دیا جائے گا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد کو نہ تو غسل دیا تھا، اور نہ ہی ان پر جنازہ کی نماز پڑھی تھی۔‘‘ شرح : یہ ان نفع بخش دروس کے سلسلہ کا آخری درس ہے۔ اسے مصنف حفظہ اللہ نے میت سے متعلق احکام ؛ اس کی تیاری؛ اس پر نماز جنازہ اوراس کی تدفین کے ساتھ خاص کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مسائل بہت اہم ہیں ؛ اور مسلمان کو چاہیے کہ ان مسلمان کو اچھی طرح سے سیکھے؛ یاد کرے اور ان کی معرفت حاصل کرے۔ موت ہر انسان پر آکر رہنی ہے۔ [1] سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کا آخری کلام (( لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ)) ہوا وہ جنت میں داخل ہو گیا-[ابو داؤد (3116) مستدرک حاکم1؍351 مسند احمد 5؍233 ]سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے مرنے والوں کو (( لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ )) کی تلقین کرو‘‘-[مسلم (916) ترمذی (976) ابو داؤد(3117) [2] ’’ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ کے پاس تشریف لائے تو ابوسلمہ کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بند کردیا، پھر فرمایا :’’جب روح قبض کی جاتی ہے تو نگاہ بھی اس کے پیچھے جاتی ہے۔‘‘پھر فرمایا:’’ اللہُمَّ اغْفِرْ لِأَبِي سَلَمَةَ، وَارْفَعْ دَرَجَتَہُ فِي المَهْدِيِّينَ، وَاخْلُفْہُ فِي عَقِبِہِ فِي الغَابِرِينَ، وَاغْفِرْ لَنَا وَلَہُ يَا رَبَّ العَالَمِينَ، وَافْسَحْ لَہُ فِي قَبْرِہِ، وَنَوِّرْ لَہُ فِيه‘‘.’’یااللہ ابوسلمہ کو معاف فرما اور ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ بلند فرما اور باقی لوگوں میں سے اس کا جانشین مقرر فرما؛یا رب العالمین! ہمیں اور اس کو بخش دے اور اس کی قبر میں اس کے لئے کشادگی فرما اور اس میں اس کے لئے روشنی فرما۔‘‘ [رواه مسلم في الجنائز (920).]