کتاب: الدروس المہمۃ کی شرح کا اردو ترجمہ دروس ابن باز - صفحہ 214
’’ ہرمسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون ؛ اس کا مال اور اس کی عزت حرام ہیں ۔‘‘ (مسلم 2564) کسی آدمی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھا کہ:’’ اس کے نام تمام دین لکھ کر بھیج دیا جائے۔‘‘  اس سوال کا جواب کیسے ممکن ہے؟ اگر کسی ایک عالم کے پاس کسی سائل کا نصیحت کے طلب گار کا خط آئے ؛اور وہ کہے کہ اس کے نام تمام دین لکھ کر بھیج دیا جائے۔‘‘ تو اس کا جواب کیسے دیا جائے گا؟تو حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما نے اس کو یہ جواب لکھا:  ’’ بیشک علم بہت زیادہ ہے؛ لیکن اگر تم استطاعت رکھتے ہو کہ کل اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملو کہ تمہاری پیٹھ لوگوں کے خون سے ہلکی ہو؛ اور تمہارا پیٹ لوگوں کے مال سے خالی ہو؛ اور تمہاری زبان لوگوں کی اعراض سے بچی ہوئی ہو؛ اور جماعت کو لازم پکڑے ہوئے ہو؛ تو پھر ایسا ضرور کرو۔‘‘[ تاریخ دمشق 31؍170] آپ نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ جس انسان کو ان تین چیزوں سے بچنے کی توفیق دی گئی ہو؛لوگوں کا خون؛ ان کی عزت و آبرو اور ان کے اموال ؛ تو یقیناً اسے بہت بڑی خیر و بھلائی اور عظیم الشان فقہ و علم سے نواز دیاگیا۔  ٭ ’’شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’اورنشہ آور مشروب ‘‘ خواہ وہ شراب ہو یا کوئی دوسری نشہ آورچیز یا عقل زائل کرنے والی چیز ۔ وہ تمام چیزیں اس میں داخل ہیں جن سے عقل ختم ہو جاتی ہے۔  شراب ام الخبائث اور ہر قسم کی برائی کی جامع ہے؛ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو کوئی شراب پیتا ہے اور اس کا عادی ہے؛ اس کی وجہ سے اسے بہت بڑے شر و فساد اور مختلف قسم کے جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے؛ کیونکہ اس کی عقل تو ختم ہو چکی ہوتی ہے۔ اور جس کی عقل نہ ہو وہ بہت سارے ایسے کام کرتا ہے جن کی اسے کوئی سمجھ بوجھ یا دانست نہیں ہوتی؛ اس کی وجہ یہی مے خوری ہے۔ جو کہ درحقیقت بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔  ٭ ’’شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’اورجواء کھیلنا۔‘‘جوا بازی مالی خطرات پر مبنی ہوتی ہے۔ جوئے میں مال ضائع بھی ہوتا ہے اور لوگوں کا مال ناحق کھایا بھی جاتا ہے۔کتنے ہی لوگ اپنے مال پر جوا کھیل کرسارے کا سارا مال ایک لحظہ میں گنوا دیتے ہیں ۔ اور کتنے ہی لوگ اس جوئے کے نتیجہ میں بہت بڑے مال کے مالک تو بن گئے ؛ مگر سب ناحق کمائی۔ جو کوئی جوئے سے حاصل شدہ مال کھاتا ہے وہ ناحق کی کمائی کھاتا ہے۔  جوکوئی اپنے مال کو جوئے کی نظر کرکے ضائع کرتا ہے؛ وہ عنداللہ اس ضیاع کاری کا جواب دہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے۔ یہی تو لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھانا ہے۔ شریعت مطہرہ ہے جوئے کو حرام ٹھہرایا ہے؛ اور اس سے منع کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ جوا ایک شیطانی عمل ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:  ﴿ اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطٰنِ ﴾[٥:٩٠] ’’بے شک شراب اور جوا اور بت اور پاسے (یہ سب) ناپاک کام اعمال شیطان سے ہیں ۔‘‘ ٭ ’’شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :’’اورغیبت کرنا ‘‘ غیبت کا معنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود یہ بیان کیا ہے: