کتاب: دنیوی مصائب و مشکلات حقیقت ، اسباب ، ثمرات - صفحہ 15
’’آنکھیں روتی ہیں اور دل دکھی ہوجاتا ہے اور ہم کچھ نہیں کہتے سوائے اس کے کہ جو ہمارے رب کو خوش کرے۔اے ابراہیم !تمہاری جدائی سے ہم غمگین ہیں ۔‘‘ ہونی ہو کر رہے گی اس زمین پر کچھ بھی نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ جو لوح ِ محفوظ (پریزروڈ ٹیبلٹ) میں درج کیا جاچکا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ہر اس چیز کے متعلق جوکہ مخلوق کے بارے میں ہے لوحِ محفوظ میں درج کر رکھا ہے۔ذریعہ ٔمعاش،رزق،عمر،اعمال وغیرہ؛یہ سب مخلوق کی پیدائش سے پچاس ہزارسال قبل ہی درج کردیا گیا ہے۔اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((کَتَبَ اللّٰہُ مَقَادِیْرَالْخَلَا ئِقِ قَبْلَ اَنْ یَّخْلُقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ بِخَمْسِیْنَ اَلْفَ سَنَۃٍ)) [1] ’’اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق کی قسمت کی مقدار زمین اور آسمانوں کی پیدائش سے پچاس ہزار سال قبل سے لکھ رکھی ہے۔‘‘ اسی طرح ہر حادثہ جس سے بندہ دوچار ہوتا ہے،اس کو بھی اللہ نے پہلے ہی مقدر میں لکھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {مَآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا،اِنَّ ذٰالِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ} (سورۃ الحدید:۲۲۔۲۳) ’’نہ کوئی مصیبت دنیا میں آتی ہے نہ(خاص) تمہاری جانوں میں ، مگر اس سے [1] صحیح مسلم ۴؍۲۰۴۴،حدیث:۲۶۵۳