کتاب: دنیا کا خاتمہ - صفحہ 92
اشاعت کے ذرائع کو بھی کام میں لایاجائے گا۔ ( اس نقش و نگار کی وجہ سے ) لوگوں کے دل اللہ تعالیٰ کی عبادت سے ہٹ کر مسجد کے نقش و نگار میں گم ہوجائیں گے۔ سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ لوگ مسجدوں پر فخر نہ کریں گے۔‘‘ بہت سارے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے مساجد کی زینت اور نقش و نگاری سے ڈرایاہے؛ کیونکہ ایسا کرنے سے دل عبادت، ذکر اور اطاعت سے مشغول ہوجاتا ہے۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ’’تم مسجدوں کو اسی طرح آراستہ کرو گے جس طرح یہودونصاریٰ نے اپنے اپنے عبادت خانوں کو آراستہ کیا ہے۔‘‘ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’… ’’ تشیید ‘‘(زیب و زینت ) کا معنی ہے اونچی اور لمبی عمارت تعمیر کرنا۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے جب اپنی کتابوں میں تحریف کی تھی اور انہیں بدل ڈالا تھا تو انہوں نے اپنے عبادت خانوں کو ایسے تعمیر کیا تھا۔ ‘‘ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : ’’بے شک یہود و نصاریٰ نے اپنے گرجا گھروں اور عبادت خانوں کو اس وقت مزّین و منقش کیا تھا جب انہوں نے اپنی کتابوں کو بدل ڈالا ؛ اور ان میں تحریف کردی، اس طرح انہوں نے دین کو ضائع کردیا اور نقش و نگاری اور زیب و زینت میں کھو گئے۔‘‘ (عمدۃ القاری :۷/۴۱) ٭ آج کل مساجد کو منقش کرنے کی کئی صورتیں ہیں : ٭ ان کی دیواروں پر مختلف قسم کے رنگ کیے جاتے ہیں ۔ ٭ مختلف قسم کی تصاویر لگائی جاتی ہیں ۔ ٭ رنگارنگ کارپٹ ( جائے نماز ) بچھائے جاتے ہیں ۔