کتاب: دنیا کا خاتمہ - صفحہ 334
(جگہ کا نام ہے) سے اور اس کے بازاروں سے اور اس کے امرا ء کے دروازوں سے بچتے رہنا۔ اور تمہارے اوپر لازم ہے کہ اس کے جنگلات ومضافات کا رخ کرنا اس لیے کہ وہاں زمین میں دھنسنے، پتھر برسنے، زلزلے واقع ہونے عذاب نازل ہوں گے اور ایک قوم رات گزرے گی اور جب صبح ہوگی تو وہ بندر اور خنزیر ہوجائیں گے۔‘‘ (ابو داؤد) اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ لوگ نئے شہر آباد کریں گے، ان میں سے ایک شہر ایسا ہوگا جسے بصرہ کہا جائے گا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیّدنا انس کو خبر دار کیا اگر وہ اس شہر میں چلے جائیں تو وہاں کی نمکین زمین سے بچ کر رہیں ۔ اوراس کے ’’کلَّا ‘‘ نامی مقام اوربازاروں سے بچ کر رہنا جہاں پر لوگ خرید و فروخت کے لیے جمع ہوتے ہیں ، اور وہاں کے ظالم امراء کے دروازوں پر جانے سے منع کیا ؛ اس لیے کہ اس شہر میں دھنسنے، آسمانوں سے پتھر برسنے، شکلیں بگڑنے اور زلزلہ آنے کے واقعات پیش آئیں گے۔ آپ نے رہنمائی فرمائی کے اس کے گرد و نواح اور آس پاس میں رہیں ، اس لیے کہ یہ مقام ہلاکت سے دور ہیں ۔ ٭ سیّدنا نافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بے شک ایک آدمی جناب ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، اور عرض کرنے لگا : ’’ فلاں نے آپ کو سلام کہا ہے۔ فرمایا مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس نے دین میں نئی بات ایجاد کی ہے اگر واقعی اس نے بدعت ایجاد کی ہے تو اسے میری طرف سے سلام مت کہنا کیوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ میری امت (یا اس امت) میں صورتیں بگڑیں گی اور زمین میں دھنسایا جائے گا اور سنگباری ہوگی اور یہ سب کچھ منکرین تقدیر کے ساتھ ہوگا۔‘‘ (سنن ابن ماجہ ، ترمذي) ان احادیث مبارکہ میں زمین میں دھنسنے کے کئی قسم کے واقعات کے بارے میں خبریں وارد ہوئی ہیں ۔ رہے وہ تین بڑے خسوف (زمین میں دھنسنے) کے واقعات جو کہ آخری زمانے میں ہوں گے تو ان میں سے ایک واقعہ کے بارے میں گزر چکا جس میں جگہ اور تعین کا سبب موجود ہے۔ جب کہ دوسرے دو واقعات آخری زمانے میں ہوں گے، لیکن مجھے کوئی ایسی حدیث نہیں ملی جس میں ان کی جگہ یا سبب کا تعین ہو۔ واللہ اعلم ****