کتاب: دنیا کا خاتمہ - صفحہ 311
ان کا بڑا کہتا ہے چلو باقی کل کھول دینا۔ پھر اللہ تعالیٰ اسے پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کر دیتے ہیں یہاں تک کہ ان کی مدت پوری ہو جائے گی اور اللہ چاہے گا کہ انہیں لوگوں پر مسلط کرے؛ تو ان کا حاکم کہے گا : چلو باقی کل کھود دینا ؛اور ساتھ ان شا اللہ بھی کہے گا۔ اس طرح جب وہ دوسرے دن آئیں گے تو دیوار کو اسی طرح پائیں گے جس طرح انہوں نے چھوڑی تھی؛ اور پھر اس میں سوراخ کرکے لوگوں پر نکل آئیں گے۔ پانی پی کر ختم کر دیں گے اور لوگ ان سے بھاگیں گے۔ پھر وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے جو خون میں لت پت ان کے پاس واپس آئے گا۔‘‘ [1] اس حدیث میں تین فائدے ہیں : پہلافائدہ : اللہ تعالیٰ نے انہیں روک کر رکھا ہے کہ وہ دن ورات کی کوششوں کے باوجود اس دیوار میں سورخ نہیں کرسکتے۔ اگر ایسانہ ہوتاوہ لوگ کب سے اس میں سوراخ کرچکے ہوتے۔ دوسرا فائدہ : اللہ تعالیٰ نے انہیں روک کر رکھا ہے کہ وہ اس دیوار کو کسی طرح بھی پھلانگ لیں ؛ یا سیڑھی وغیرہ یا کسی دوسری چیز کا استعمال کرکے اس دیوار پر چڑھ جائیں ۔ اللہ نے یہ بات ان کے ذہن میں نہیں ڈالی۔ اور نہ ہی انہیں ایسی چیزوں کا علم ہوسکا ہے۔ اور شاید کہ اگر وہ اس کی کوشش کریں تب بھی کامیاب نہ ہوں ، اس لیے کہ یہ دیوار بہت بلنداور چکنی ہے۔ تیسرا فائدہ : اللہ تعالیٰ انہیں قرب قیامت سے پہلے ’’ إن شاء اللّٰہ‘‘ کہنے کی توفیق نہیں دے گا۔ حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان میں کاریگر، اہل فن ؛حاکم اور سردار بھی ہیں ، اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت اور ارادے کا اعتراف کرتے ہیں ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کے بڑے کی زبان پر لفظ ’’ إن شاء اللّٰہ‘‘ بغیر کسی ارادے کے، یا اس لفظ کا معنی جانے بغیر ہی جاری ہوجائے، اور اس کلمے کی برکت حاصل ہوجائے۔ (فتح الباری:۱۳/۱۰۹) [1] اور وہ کہیں گے : ہم نے زمین والوں کو بھی دبالیا اور آسمان والے پر بھی چڑھائی کر دی۔ ان کا یہ قول ان کے دل کی سختی اور غرور کی وجہ سے ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایک کپڑا پیدا کر دیں گے جس سے وہ سب مرجائیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے قبضہ میں میری جان ہے ! زمین کے جانور ان کا گوشت کھا کر موٹے ہو جائیں گے اور مٹکتے پھریں گے اور ان کا گوشت کھانے پر اللہ تعالیٰ کا خوب شکر ادا کریں گے۔(تکمیل حدیث از مترجم… ترمذی)