کتاب: دنیا کا خاتمہ - صفحہ 300
کی، تو جو کوئی ان سے ملے وہ ان تک میرا سلام پہنچائے۔‘‘ (مسند احمد ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ناز ل ہونے کے بعد زمین میں مدت قیام حضرت عیسیٰ علیہ السلام چالیس سال تک زمین میں رہیں گے۔ جس میں لوگ امن و امان اور عدل و انصاف کی زندگی گزار یں گے۔اس پر وہ حدیث دلالت کرتی ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تمام انبیاء باپ زاد بھائی ہیں ۔ ان کی مائیں علیحدہ علیحدہ ہیں اور ان کا دین ایک ہے اور میں لوگوں میں سب سے زیادہ ابن مریم کے قریب ہوں ۔ اس لیے کہ میرے اور ابن مریم کے درمیان کوئی نبی نہیں ۔ …یہاں تک کہ آپ نے فرمایا:… آپ چالیس سال زمین میں رہیں گے، پھر آپ کی وفات ہوگی؛ اورمسلمان آپ کی نمازجنازہ پڑھیں گے۔‘‘ (مسند احمد، مستدرک حاکم ) سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ﴿وَ اِِنَّہٗ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَۃِ ﴾ (الزخرف:۶۱) ’’بے شک آپ قیامت کا علم ہیں ۔‘‘ اس سے مراد عیسیٰ علیہ السلام کا خروج ہے ؛ آپ چالیس سال تک زمین میں رہیں گے۔ یہ چالیس سال ایسے ہوں گے جیسے چار سال، آپ حج اور عمرہ کریں گے۔‘‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا حج سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! عیسیٰ بن ضرور بالضرور فج روحاء (ایک جگہ کانام ہے) سے تلبیہ کہیں گے حج کا ؛ یا عمرہ کا یا حج اورعمرہ دونوں کا ۔‘‘ (مسلم) یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام فج روحاء سے حج کے لیے تلبیہ کہیں گے۔ فج روحاء مکہ مدینہ روڈ پر ایک جگہ کا نام ہے۔