کتاب: دنیا کا خاتمہ - صفحہ 288
عیسائی اوراسلامی عقیدہ میں اختلاف (اس ضمن میں )عیسائی اور اسلامی عقیدہ میں بذیل امور میں اختلاف پایا جاتا ہے : ۱۔ عیسائیوں کا عقیدہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے بیٹے ہیں ۔ یہ باطل عقیدہ ہے، صحیح یہ ہے کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ۲۔ عیسائیوں کا عقیدہ کہ یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کردیا اور پھانسی دے دی۔ یہ باطل عقیدہ ہے، صحیح بات یہ ہے کہ یہودی نہ ہی آپ کو قتل کرسکے ہیں اور نہ پھانسی دے سکے ہیں ۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا تھا۔ ۳۔ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو پھانسی کے تین دن بعد آسمانوں پر چڑھا لیا گیا، یہ باطل ہے۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے (اسی روز) بغیر قتل اور پھانسی کے آپ کو آسمانوں پر چڑھا لیا تھا۔ وہ احوال جن میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے اس وقت مسلمان عیسائیوں کے ساتھ ایک بہت بڑا معرکہ لڑنے کے لیے نکلے ہوں گے، اور انہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کرکے اس کی حکومت کو عیسائیوں سے دوبارہ حاصل کرلیا ہوگا۔ اور یہ بھی گزر چکاہے کہ مسلمان اس شہر کو تکبیر و تہلیل سے فتح کریں گے ؛نہ کہ اسلحہ کے زور پر۔ اور شیطان آواز لگائے گاکہ دجال نکل چکاہے، پس مسلمان قسطنطنیہ سے دمشق واپس پلٹیں گے، اس لیے کہ مسلمانوں کے لشکر کا بیس کیمپ دمشق میں ہوگا۔ اس کے بعد گمراہی کا مسیح یعنی دجال حقیقت میں نکلے گا۔ وہ زمین میں گھومتا پھرے گا، اور بہت بڑا فتنہ برپا ہوگا۔ (جیساکہ قیامت کی بڑی نشانی نمبر ۱ میں گزر چکا ہے۔) ایک دوسری تفصیلی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کے متعلق کلام کرتے ہوئے فرمایا: ’’دجال مدینہ کی بنجر زمین میں اترے گا۔