کتاب: دنیا کا خاتمہ - صفحہ 256
پھر کہے گا :کھڑا ہو جا۔ تو وہ سیدھا ہو کر کھڑا ہو جائے گا۔ پھر اس سے کہے گا :کیا تو مجھ پر ایمان نہیں لاتا ؟ تو وہ کہے گا: مجھے تیرے بارے میں پہلے سے زیادہ بصیرت عطا ہوگئی ہے۔ پھر وہ کہے گا: اے لوگو !یہ دجال میرے بعد کسی بھی اور آدمی سے ایسا نہ کر سکے گا۔ پھر دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا اس کی گردن اور ہنسلی کے درمیان کی جگہ تانبے کی ہو جائے گی؛ اور اسے ذبح کرنے کا کوئی راستہ نہ ملے گا؛ پھر وہ اس کے ہاتھ اور پاؤں پکڑ کر پھینک دے گا تو وہ لوگ گمان کریں گے کہ اس نے اسے آگ کی طرف پھینکا ہے؛ حالانکہ اسے جنت میں ڈال دیا جائے گا۔‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’یہ آدمی رب العالمین کے ہاں سب سے بڑی شہادت کا حامل ہوگا۔‘‘ (مسلم) فائدہ :…یہ حدیث شرعی علوم سیکھنے کی اہمیت پر دلالت کرتی ہے۔ اگر اس نوجوان کے پاس پہلے سے دجال کے بارے میں علم نہ ہوتا تو اسے علم نہ ہوسکتا کہ یہ دجال ہے۔ اسی باطل کا مقابلہ کرنے والے ہر انسان پر واجب ہوتا ہے کہ وہ علم شرعی سے لیس ہو۔ اس نوجوان کو یقین ہوچکا تھا کہ یہی دجال ہے ؛ اور یہ قتل اس کے بغیر کوئی نہیں کرسکے گا۔ اس لیے کہ یہ ایسا نوجوان ہوگا جس نے احادیث پڑھ رکھی ہوں گی۔اور وہ جانتا ہوگا کہ وہی نوجوان آج کے دن کے لیے مطلوب ہے۔ دجال سے جنگ کی تیاری جیسے کہ اس زمانے کے مومنین کریں گے۔ سیّدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ جہاد کے لیے تیاری کر رہے ہوں گے اور صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے کہ نماز کے لیے اقامت کہی جائے گی اور عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے۔‘‘ (مسلم) سیّدناحذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خروج دجال ، مہدی اور ان کے ساتھیوں کی دجال سے جنگ کی تیاری کے متعلق فرمایا: ’’یہاں تک کہ دجال مدینہ آئے گا، وہ اس کے بیرونی علاقے پر غالب آجائے گااور اندرون شہر داخل ہونے سے اسے روک دیا جائے گا۔ پھر (بیت المقدس میں ) جبل (پہاڑ) ایلیاء کے علاقے میں آئے