کتاب: دنیا کا خاتمہ - صفحہ 237
آپ نے فرمایا: ’’ وہ بہت کم ہوں گے۔‘‘ (مسلم) جنگ اور قسطنطنیہ کی فتح سیّدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’بیت المقدس کی آبادی مدینہ کی تخریب کا سبب ہے؛ اورمدینہ کی تخریب جنگ وجدال کا سبب ہے۔ اورجنگ وجدال قسطنطنیہ کی فتح کا سبب ہے اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے نکلنے کا سبب ہے۔‘‘ (ابو داؤد) فتوحات جناب نافع بن عتبہ رضی اللہ عنہ روایت بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مغرب کی طرف سے ایک قوم آئی جن پر سفید اونی کپڑے تھے ؛اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ٹیلے کے پاس ملے وہ کھڑے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ مجھے میرے دل نے کہا کہ: تو بھی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان جا کر کھڑا ہو کہ کہیں وہ دھوکہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ ہی نہ کردیں ۔ پھر میں نے کہا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کوئی راز کی بات کر رہے ہوں ۔ بہر حال پھر میں ان کے پاس آیا؛ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور ان کے درمیان کھڑا ہوگیا؛ اور اسی دوران میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے چار کلمات یاد کیے؛ جنہیں میں نے اپنے ہاتھوں پر شمار کرلیا۔ آپ نے فرمایا : ’’تم جزیرۂ عرب میں جہاد کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں فتح عطا فرمائے گا ؛ پھر تم اہل فارس سے جنگ کرو گے ان پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا فرمائیں گے ؛ پھر تم روم سے جہاد کرو گے اور اللہ تعالیٰ اس پر بھی تمہیں فتح عطا فرمائیں گے ؛ پھر تم دجال سے جنگ کرو گے اس پر بھی اللہ تمہیں فتح عطا کریں گے ۔‘‘ (مسلم) بارش اور نباتات کا روک دیا جانا سیّدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دجال کے نکلنے سے تین برس پہلے قحط ہوگا۔ ان تینوں سالوں میں لوگ بھوک سے سخت تکلیف اٹھائیں گے۔ پہلے سال میں اللہ تعالیٰ یہ حکم کرے گا کہ دو تہائی بارش روک لے ؛اور زمین کو یہ حکم کرے گا کہ : تہائی پیداوار روک لے۔ پھردوسرے سال میں اللہ تعالیٰ آسمان کو یہ حکم کرے گا کہ: دو تہائی بارش کو روک لے ؛ اور زمین کو حکم دیا گا کہ : دو تہائی پیداوار روک لے۔ پھرتیسرے سال میں اللہ