کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 255
۱۱۵۔ ((اَللّٰہُمَّ مَتِّعْنِی بِسَمْعِی وَبَصَرِی وَاجْعَلْہُمَا الْوَارِثَ مِنِّی، وَانْصُرْنِی عَلَی مِنْ یَظْلِمُنِی، وَخُذْ مِنْہُ بِثَأْرِیْ۔))[1]
’’اے اللہ! مجھے میری سماعت اور میری بصارت سے فائدہ پہنچا اور ان دونوں کو میرا وارث بنا، اور جو مجھ پر ظلم کرے اس کے خلاف میری مدد فرما اور اس سے میرا انتقام لے۔‘‘
۱۱۶۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی أَسْأَلُکَ عِیْشَۃً نَقِیَّۃً وَمَیْتَۃً سَوِیَّۃً وَمَرَدًّا غَیْرَ مَخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ)) [2]
’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں صاف ستھری زندگی
[1] ترمذی: نیز دیکھئے: صحیح ترمذی: ۳/۱۸۸، حاکم: ۱/۵۲۳، حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے۔
[2] زوائد مسند بزار: ۲/۴۴۲، حدیث (۲۱۷۷) طبرانی، نیز دیکھئے: مجمع الزوائد: ۱/۱۷۹، ہیثمی نے کہا کہ طبرانی کی سند عمدہ ہے۔