کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 252
’’اے اللہ! تو اپنے ذکر کی، اپنی شکر گزاری کی اور اپنی بہترین عبادت کی ہمیں توفیق عطا فرما۔‘‘ ۱۱۱۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی أَسْأَلُکَ اِیْمَاناً لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیْمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ مُحَمَّدٍ صلي الله عليه وسلم فِی أَعْلَی جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔))[1] ’’اے اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کا سوال کرتا ہوں جس کے بعد ارتداد کا خطرہ نہ رہے، اور ایسی نعمت کا جو کبھی ختم نہ ہو، اور جنت الخلد کے اعلیٰ ترین حصہ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کا ۔(سوال کرتا ہوں )
[1] اس حدیث کو ابن حبان نے ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے موقوفاً روایت کیا ہے، دیکھئے: موارد الظمأن، صفحہ ۶۰۴، حدیث: ۲۴۳۶ ایک دوسری سند سے اسے احمد نے ۱/۳۸۶، ۴۰۰ میں اور نسائی نے ’’ عمل الیوم واللیلہ‘‘ میں (حدیث ۸۶۹) روایت کیا ہے۔