کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 251
۱۰۹۔ ((اَللّٰہُمَّ حَاسِبْنِی حِسَابًا یَّسِیِْرًا۔))[1]
’’اے اللہ! روز قیامت میرے حساب میں آسانی فرما۔‘‘
۱۱۰۔ ((اَللّٰہُمَّ أَعِنَّا عَلَی ذِکْرِکَ وَ شُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ۔))[2]
[1] احمد: ۶/۴۸۔ حاکم: ۱/۲۵۵،حاکم نے کہا کہ یہ حدیث مسلم کی شرط پر صحیح ہے اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے، عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوتے تو میں نے کہا اے اللہ کے نبی! آسان حساب کیا ہے؟ فرمایا: ’’آسان حساب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بندہ کے اعمال نامہ کو دیکھے اور اسے معاف فرما دے، اے عائشہ! اس دن جس کے حساب کی پوچھ تاچھ ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا، اور مومن کو جو بھی مصیبت لا حق ہوتی ہے اللہ عزوجل اس کے بدلے اس کی خطا معاف فرماتا ہے، یہاں تک کہ اسے جو کانٹا چبھتا ہے۔ (اس سے بھی اس کا گناہ معاف ہو تا ہے)۔
[2] حاکم: ۱/۴۹۹، حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے، اور جیسا کہ دونوں نے کہا ہے یہ حدیث صحیح ہی ہے، یہ حدیث ابودائود: ۲/۸۶ ا ور نسائی: ۳/۵۳ کتاب السہو میں بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو وصیت فرمائی کہ وہ ہر نماز کے بعد اس دعا کو پڑھا کریں ۔