کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 242
نَفْسِی۔)) [1]
’’اے اللہ! مجھے میری بھلائی کے کاموں کی توفیق دے اور مجھے نفس کی شرارتوں سے اپنی پناہ میں رکھ۔‘‘
۱۰۳۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی أَسْأَلُکَ عِلْمًا نَافِعًا، وَأَعُوذُبِکَ مِنْ عِلْمٍ لَایَنْفَعٌ۔)) [2]
’’اے اللہ! میں تجھ سے نفع بخش علم کا سوال کرتا ہوں اور ایسے علم سے تیری پناہ چاہتا ہوں جو نفع نہ دے۔‘‘
[1] احمد: ۴/۴۴۴۔ ترمذی: ۵/۵۱۹،مذکورہ الفاظ ترمذی کی روایت کے ہیں اور احمد کی روایت کی سند عمدہ ہے۔
[2] ابن ماجۃ : ۲/۱۲۶۳، نیز دیکھئے: صحیح ابن ماجۃ : ۲/۳۲۷۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((سَلْوا اللّٰہَ عِلْمًا نَافِعًا وَتَعَوَّذُوا بِاللّٰہِ مِنْ عِلْمٍ لَایَنْفَعٍُ۔)) ’’اللہ سے نفع بخش علم کا سوال کرو اور اس علم سے اللہ کی پناہ طلب کرو جو نفع نہ دے۔‘‘