کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 230
’’اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں رہائش گاہ میں برے پڑوسی سے، کیونکہ صحرا کا (خانہ بدوش) پڑوسی تو بدل جاتا ہے۔‘‘ [1]
۸۶۔ ((اللّٰہُمَّ اِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ، وَمِنْ دُعَائٍ لَا یُسْمَعُ، وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ، وَمِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ أَعُوذُبِکَ مِنْ ھَؤُلَائِ الأَرْبَعِ۔))[2]
’’اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے دل سے جس میں خشوع نہ ہو، ایسی دعا سے جو قبول نہ کی جائے، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ان چاروں سے میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں ۔‘‘
[1] حاکم: ۱/۵۳۲۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے، نسائی: ۸/۲۷۴۔ نیز دیکھئے: صحیح الجامع: ۱/۴۰۸۔ صحیح نسائی: ۳/۱۱۱۸۔
[2] ترمذی: ۵/۵۱۹۔ ابوداؤد: ۲/۹۲۔ نیز دیکھئے: صحیح الجامع: ۱۰/۴۱۰۔ صحیح نسائی: ۳/۱۱۱۳۔