کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 229
شہرت طلبی سے اور ریاکاری سے۔ اور تیری پناہ چاہتا ہوں بہرے پن سے، گونگے پن سے، دیوانگی سے، جذام سے، برص سے اور تمام بری بیماریوں سے۔‘‘ ۸۴۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنَ الْفَقْرِ وَ الْقِلَّۃِ وَالذِّلَّۃِ، وَأَعُوذُبِکَ مِنَ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أَظْلَمَ۔))[1] ’’اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں تنگدستی، قلت اور ذلت سے۔ اور تیری پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے۔‘‘ ۸۵۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی أَعُوذُ بِکَ مِنْ جَارِ السُّوئِ فِی دَارِ الْمُقَامَۃِ، فَاِنَّ جَارَ الْبَادِیَۃِ یَتَحَوَّلُ۔))
[1] نسائی، ابوداؤد: ۲/۹۱۔ نیز دیکھئے: صحیح نسائی: ۳/۱۱۱۱۔ صحیح الجامع: ۱/۴۰۷۔