کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 224
’’اے اللہ! میں تیرا ہی فرمانبردار ہوا، تجھ پر ہی ایمان لایا، تجھ پر ہی بھروسہ کیا، تیری ہی طرف رجوع کیا اور تیری ہی توفیق سے (تیرے دشمنوں سے) جھگڑا کیا۔ اے اللہ! میں تیری عزت کی پناہ چاہتا ہوں اس بات سے کہ تو مجھے گمراہ کرے، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ، تو زندہ و جاوید ہستی ہے جسے کبھی موت نہیں آسکتی اور جن و انس سب مر جائیں گے۔‘‘
۷۷۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنَّا نَسْأَلُکَ مُوجِبَاتِ رَحْمَتِکَ، وَعَزَائِمَ مَغْفِرَتِکَ، وَالسَّلَامَۃَ مِنْ کُلِّ اِثْمٍ، وَالْغَنِیمَۃَ مِنْ کُلِّ بِرٍّ،وَالْفَوْزَ بِالْجَنَّۃِ، وَ النَّجَاۃَ مِنَ النَّارِ۔))[1]
[1] حاکم: ۱/۵۲۵۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے۔ نیز دیکھئے: امام نووی کی ‘‘الاذکار‘‘ صفحہ ۳۴۰، محقق عبدالقادر ارناؤط نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے۔