کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 217
قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْعَمَلٍ۔ وَأَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ وَمَا قَرَّبَ إِلَیْہَا مِنْ قَوْلٍ أَوْ عَمَلٍ۔ وَأَسْأَلُکَ أَنْ تَجْعَلَ کُلَّ قَضَائٍ قَضَیْتَہٗ لِيْ ، خَیْرًا۔))[1] ’’اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ہر بھلائی کا، خواہ جلد آنے والی ہو یا دیر سے آنے والی ہو، اسے میں نے جان لیا ہو یا نہ جانا ہو، اور تیری پناہ چاہتا ہوں ہر شر سے، خواہ جلد آنے والا ہو یا دیر سے آنے والا ہو، اسے میں نے جان لیا ہو یانہ جانا ہو۔ اے اللہ! میں تجھ سے اس خیر کا سوال کرتا ہوں جس کا تیرے بندہ اور نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم )نے تجھ سے سوال کیا ہے، اور اس شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں جس سے
[1] ابن ماجۃ : ۲/۱۲۶۴۔ احمد ۶/۱۳۴۔ دوسرے اضافہ کے الفاظ احمد کی روایت کے ہیں ، حاکم: ۱/۵۲۱۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے، پہلے اضافہ کے الفاظ حاکم کی روایت کے ہیں ، نیز دیکھئے: صحیح ابن ماجہ: ۲/۳۲۷۔