کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 215
عَنِّی۔))[1]
’’اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا کرم نواز ہے، معاف کر دینے کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔‘‘
۶۹۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنِّی أَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ، وَ تَرْکَ الْمُنْکَراتِ، وَ حُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِی وَتَرْحَمَنِی، وَاِذَا أَرَدْتَ فِتْنَۃَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِی غَیْرَ مَفْتُونٍ۔وَأَسْأَلُکَ حُبَّکَ،وَحُبَّ مَنْ یُحِبُّکَ، وَحُبَّ عَمَلٍ یُقَرِّبُنِی اِلَی حُبِّکَ۔))[2]
[1] ترمذی: ۵/۵۳۴۔ بتحقیق ابراہیم عطوہ، مطبع مصطفی البانی، نیز دیکھئے: صحیح ترمذی: ۳/۱۷۰
[2] احمد: ۵/۲۴۳ بالفاظ مذکور، ترمذی: ۵/۳۶۹ ملتے جلتے الفاظ کے ساتھ، حاکم: ۱/۵۲۱۔ ترمذی نے اس حدیث کو حسن بتایا ہے اور کہا کہ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے، حدیث کے آخر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (( اِنَّہَا حَقٌّ فَادْرُسُوہَا وَتَعْلَّمُوہَا۔)) یہ بر حق ہے، لہٰذا اسے پڑھو سیکھو۔