کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 213
سے تیرہ پناہ طلب کرتے ہیں جس سے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تیری پناہ طلب کی ہے، تجھ سے ہی مدد طلب کی جاتی ہے، نیک کاموں کی توفیق دینا تیرا ہی کام ہے، اور تیری توفیق کے بغیر خیر تک پہنچنے اور شر سے بچنے کی طاقت و قوت نہیں ۔‘‘ ۶۵۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَعُوذُ بِکَ مِنْ شَرِّ سَمْعِی، وَ مِنْ شَرِّ بَصَرِی، وَ مِنْ شَرِّ لِسَانِی، وَ مِنْ شَرِّ قَلْبِی، وَ مِنْ شَرِّ مَنِیِّی۔))[1] ’’اے اللہ! میں اپنے کان کے شر سے، اپنی آنکھ کے شر سے، اپنی زبان کے شر سے، اپنے دل کے شر سے اور اپنی منی (شہوت) کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں ۔‘‘
[1] ابوداؤد: ۲/۹۲۔ ترمذی: ۵/۵۲۳۔ نسائی: ۸/۲۱۷ وغیرہم، نیز دیکھئے: صحیح ترمذی: ۳/۱۶۶۔ صحیح نسائی: ۳/۱۱۰۸