کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 211
لَکَ مِطْوَاعًا ، لَکَ مُخْبِتًا ، إِلَیْکَ أَوَّاہًا مُنِیْبًا ، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِيْ،وَاغْسِلْ حَوْبَتِيْ وَأَجِبْ دَعْوَتِيْ ، وَثَبِّتْ حُجَّتِيْ ، وَاہْدِ قَلْبِيْ، وَسَدِّدْ لِسَانِيْ، وَاسْلُلْ سَخِیْمَۃَ قَلْبِی۔))[1] ’’اے میرے رب! میری اعانت کر اور میرے خلاف کسی کی اعانت نہ کر، میری مدد فرما اور میرے خاف کسی کی مدد نہ فرما، میرے لیے اچھی تدبیر کر اور میرے خلاف کسی کے لیے تدبیر نہ کر، مجھے ہدایت دے اور ہدایت کو میرے لیے آسان کر دے اور جو مجھ پر زیادتی کرے اس کے خلاف میری مدد فرما۔ اے میرے رب! مجھے اپنا شکر گزار، بکثرت ذکر کرنے
[1] ابوداؤد: ۲/۸۳۔ ترمذی: ۵/۵۵۴۔ ابن ماجۃ: ۲/۱۲۵۹۔ حاکم: ۱/۵۱۹۔ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے، نیز دیکھئے: صحیح ترمذی: ۳/۱۷۸۔ احمد: ۱/۱۲۷۔