کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 210
’’اے اللہ! میں تجھ سے دنیا اور آخرت میں عافیت کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘
۶۲۔ ((اَللّٰہُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِی الْأُمُورِ کُلِّہَا، وَأَجِرَنَا مِنْ خِزْیِ الدُّنْیَا وَ عَذَابِ الآخِرَۃِ)) [1]
’’اے اللہ! تمام معاملات میں ہمارا انجام بہتر بنا اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے بچا۔‘‘
۶۳۔ ((رَبِّ أَعِنِّيْ وَلَا تُعِنْ عَلَیَّ وَانْصُرْنِيْ وَلَا تَنْصُرْ عَلَیَّ وَامْکُرْنِيْ وَلَا تَمْکُرْ عَلَیَّ ، وَاہْدِنِيْ وَیَسِّرْلِي الْہُدَی، وَانْصُرْنِيْ عَلَی مَنْ بَغَی عَلَيَّ۔ رَبِّ اجْعَلْنِيْ لَکَ شَکَّارًا، لَکَ ذَکَّارًا ، لَکَ رَہَّابًا
[1] احمد: ۴/۱۸۱، معجم طبرانی کبیر، حافظ ہیثمی ’’مجمع الزوائد‘‘ ۱۰/۱۷۸ میں فرماتے ہیں کہ مسند احمد کی روایت کے اور طبرانی کی ایک سند کے رواۃ ثقہ ہیں ۔