کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 209
’’اے اللہ! دلوں کے پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی جانب پھیر دے۔‘‘ ۶۰۔ ((یَامُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِی عَلَی دِیْنِکَ)) [1] ’’اے دلوں کے پلٹنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت کر دے۔‘‘ ۶۱۔ ((اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃَ۔))[2]
[1] ترمذی: ۵/۲۳۸۔ احمد: ۴/۱۸۲۔ حاکم: ۱/۵۲۵، ۵۲۸۔ حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے، نیز دیکھئے: صحیح الجامع ۶/۳۰۹، صحیح ترمذی: ۳/۱۷۱، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیشتر دعا یہی تھی۔ [2] ترمذی: ۵/۵۳۴ و دیگر کتب حدیث، حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((سلوا اللہ العافیۃ فی الدنیا والآخرۃ۔)) اور دوسری روایت میں ہے: ((سلوا اللہ العفو والعافیۃ۔)) اللہ سے در گرز اور عافیت کا سوال کرو، کیونکہ کسی شخص کو ایمان و یقین کے بعد عافیت سے بڑھ کر کوئی بھلائی عطا نہیں ہوئی۔ نیز دیکھئے: صحیح ترمذی: ۳/۱۸۰، ۱۷۰۔ اس حدیث کے شواہد بھی ہیں ، دیکھئے: مسند احمد بترتیب احمد شاکر ۱/۱۵۶، ۱۵۷۔