کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 206
أَنْتَ۔))[1]
’’اے اللہ! میں تیری ہی رحمت کا امید وار ہوں ، پس مجھے پلک جھپکنے کے برابر بھی میرے نفس کے حوالہ نہ کر، اور میرے تمام امور کو سنوار دے، تیرے سوا کوئی معبود بر حق نہیں ۔‘‘
۵۷۔ ((لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ۔))[2]
[1] ابوداؤد: ۴/۳۲۴۔ احمد: ۵/۴۲، علامہ البانی رحمہ اللہ وغیرہ نے اس حدیث کو حسن بتایا ہے۔
[2] ترمذی: ۵/۲۹۵، حاکم نے اس حدیث کو روایت کر کے صحیح کہا ہے اور ذہبی نے ان کی تائید کی ہے، دیکھئے: مستدرک حاکم: ۱/۵۰۵، نیز دیکھئے: صحیح ترمذی: ۳/۱۶۸، حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ((دعوۃ ذی النون اذ دعا و ہو فی بطن الحوت۔)) ﴿لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ﴾ ((فانہ لم یدع بہا رجل مسلم فی شیئی قط الا استجاب اللہ لہ۔)) (یونس علیہ السلام ) کی دعا جو انہوں نے مچھلی کے پیٹ میں کی یہ تھی ﴿لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ سُبْحَانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِیْنَ﴾ ان کلمات کے ساتھ جو مسلمان جس بارے میں بھی دعا کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعا ضرور قبول فرماتا ہے۔