کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 204
۵۴۔ ((اللّٰہُمَّ أَکْثِرْ مَالِی وَوَلَدِی، وَبَارِکْ لِی فِیْمَا أَعْطَیْتَنِی۔))[1] ((وَأَطِلْ حَیَاتِی عَلَی طَاعَتِکَ وَ أَحِسنْ عَمَلِی وَ اغْفِرْلِی۔))[2]
’’اے اللہ! میرے مال اور میری اولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ مجھے دیا اس میں میرے لیے برکت عطا فرما (اپنی اطاعت
[1] اس کی دلیل حضرت انس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا ہے: ((اَللّٰہُمَّ أَکْثِرْ مَالَہُ وَوَلَدَہُ، وَ بَارِکْ لَہُ فِیْمَا أَعْطَیْتَہُ۔)) (بخاری: ۷/۱۵۴۔ مسلم: ۴/۱۹۲)
[2] الادب المفرد للبخاری، حدیث (۶۵۳) علامہ البانی نے اس حدیث کو ’’سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ‘‘ حدیث (۲۲۴۱) اور ’’صحیح الادب المفرد‘‘ حدیث (۲۴۴) میں صحیح قرار دیا ہے، بریکٹ کے درمیان مذکور الفاظ کی دلیل یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ سب سے افضل شخص کون ہے؟ تو آپ نے فرمایا: ((مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ۔)) اسے ترمذی اور احمد نے روایت کیا ہے اور البانی نے صحیح ترمذی ۲/۲۷۱ میں صحیح قرار دیا ہے، نیز میں نے سماحۃ الشیخ عبدالعزیز ابن بازرحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا مذکورہ الفاظ کے ساتھ دعا کرنا سنت ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں ۔