کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 201
دے جس میں مجھے لوٹ کر جانا ہے، اور زندگی کو میرے لیے ہر خیر میں اضافہ کا سبب بنا اور موت کو میرے لیے ہر شر سے راحت کا ذریعہ بنا۔‘‘
۴۹۔ ((اَللّٰہُمَّ إِنِّیْ أَسْأَلُکَ الْہُدٰی وَالتُّقٰی وَالْعَفَافَ وَالْغِنٰی۔))[1]
’’اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت کا، تقویٰ کا، عفت و پاک دامنی کا اور لوگوں سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں ۔‘‘
۵۰۔ ((اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَالْہَرَمِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ۔ اَللّٰہُمَّ آتِ نَفْسِيْ تَقْوَاہَا، وَزَکِّہَا أَنْتَ خَیْرُ مَنْ زَکَّاہَا ، أَنْتَ وَلِیُّہَا وَمَوْلَاہَا۔ اَللّٰہُمَّ إِنِّيْ أَعُوْذُبِکَ مِنْ عِلْمٍ لَا یَنْفَعُ وَمِنْ قَلْبٍ لَا یَخْشَعُ وَمِنْ نَفْسٍ لَا تَشْبَعُ ،
[1] مسلم: ۴/۲۰۸۷