کتاب: دعائیں اور شرعی دم - صفحہ 172
واپس لوٹائے۔
۱۴۔ ہر دعا کو تین بار دہرائے۔
۱۵۔ قبلہ رُخ ہو کر دعا کرے۔
۱۶۔ دعا کے وقت ہاتھ بلند کرے۔
۱۷۔ ہو سکے تو دعا سے پہلے وضو کرے۔
۱۸۔ دعا میں حد سے تجاوز نہ کرے۔
۱۹۔ اگر دوسرے کے لیے دعا کرنی ہو تو پہلے اپنے لیے دعا کرے۔[1]
[1] نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ نے اپنے لیے دعا کی (پھر دوسرے کے لیے دعا فرمائی) اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ نے پہلے اپنے لیے دعا نہیں فرمائی، یسا کہ سیّدنا انس، ابن عباس اور ام اسماعیل وغیرہم رضی اللہ عنہم کے لیے آپ نے دعا فرمائی۔ اس بارے میں مزید تفصیل کے لیے دیکھئے: صحیح مسلم، بشرح نووی : ۱۵/۱۴۴ ۰ تحفۃ الاحوذی شرح سنن ترمذی: ۹/۳۲۸۔ صحیح بخاری مع فتح الباری: ۱/۲۱۸۔