کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 96
أَ لْأَدْعـِـــیَۃُ الْخَـــاصَّۃُ لِبَعْضِ الصَّـلاَۃِ بعض نمازوں کی مخصوص دعائیں مسئلہ نمبر 130 نماز تہجد میں سورہ فاتحہ سے قبل درج ذیل دعا پڑھنی مسنون ہے۔ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ النَّبِیُّ صلی اللّٰه علیہ وسلم اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ اِفْتَتَحَ صَلاَ تَہٗ ]اَللّٰہُمَّ رَبِّ جِبْرِیْلَ وَ مِیْکَائِیْلَ وَ اِسْرَافِیْلَ فَاطِرِ السَّمٰوَاتِ وْالْاَرْضِ عَالِمَ الْغَیْبِ وَ الشَّہَادَۃِ، اَنْتَ تَحْکُمُ بَیْنَ عِبَادِکَ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ، اِہْدِنِیْ لِمَا اخْتُلِفَ فِیْہِ مِنَ الْحَقِّ بِاِذْنِکَ اِنَّکَ تَہْدِیْ مَنْ تَشَائُ اِلٰی صِرَاطٍ مُسْتَقِیْمِ[ رَوَاہُ مُسْلِمٌ[1] حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب رات کو نماز کے لئے اٹھتے تو اپنی نماز کا آغاز اس دعا سے فرماتے’’((اے اللہ! جو کہ رب ہے جبرئیل علیہ السلام ‘میکائیل علیہ السلام اور اسرافیل علیہ السلام کا، زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا غائب اور حاضر کا جاننے والا، جن باتوں میں لوگ اختلاف کررہے ہیں ان کا فیصلہ تو ہی کرے گا ان اختلافات کی باتوں میں تو مجھے اپنی توفیق سے حق کی راہ دکھلا کیونکہ سیدھے راستے کی طرف تو ہی ہدایت دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔))‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 131 نماز وتر میں درج ذیل دعا پڑھنا مسنون ہے۔ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : عَلِّمْنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم کَلِمَاتٍ اَقُوْلُہُنَّ فِی الْقُنُوْتِ ]اَللّٰہُمَّ اہْدِنِیْ فِیْمَنْ ہَدَیْتَ وَ عَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ وَ تَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَّیْتَ وَ بَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَ قِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَ لاَ یُقْضٰی عَلَیْکَ وَ اِنَّہٗ لاَ یَذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَ لَا یَعِزُّ مَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ [ رَوَاہُ [1] کتاب صلاۃ المسافرین ، باب الدعا فی صلاۃ اللیل عدد رکعات النبی صلي الله عليه وسلم