کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 95
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم درج ذیل کلمات پڑھنے کا حکم دیا کرتے تھے((اے اللہ ! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں، بخیلی سے، بزدلی سے اور اس بات سے پلٹایا جائوں بہت زیادہ بڑھاپے کی عمر کو اور تیری پناہ طلب کرتاہوں دنیا کی آزمائش سے اور عذاب قبر سے))اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ 9۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((مَنْ قَرَا آیَۃَ الْکُرْسِیِّ دُبُرَ کُلِّ صَلاَۃٍ مَکْتُوْبَۃٍ لَمْ یَمْنَعْہُ مِنْ دُخُوْلِ الْجَنَّۃِ اِلاَّ اَنْ یَمُوْتَ۔))رَوَاہُ النَّسَائِیُّ وَابْنُ حَبَّانَ وَالطَّبْرَانِیُّ [1] (صحیح) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جس نے ہر نماز کے بعد آیت الکرسی [2] پڑھی اسے موت کے سوا کوئی چیز جنت میں جانے سے نہیں روک سکتی۔‘‘ اسے نسائی، ابن حبان اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ 10۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ رضی اللّٰه عنہ قَالَ: کَانَ اِذَا سَلَّمَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم مِنَ الصَّلاَۃِ قَالَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ ] سُبْحَانَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلاَمُ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔[ رَوَاہُ اَبُوْ یَعْلٰی[3] حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب(نماز سے)سلام پھیرتے تو تین مرتبہ یہ کلمات ارشاد فرماتے ’’تیرا عزت والا رب ان تمام عیوب سے پاک ہے جو کافر بیان کرتے ہیں۔ سلامتی ہو رسولوں پر اور حمد کے لائق صرف اللہ رب العالمین کی ذات ہے۔‘‘ اسے ابو یعلیٰ نے روایت کیا ہے [1] سلسلہ احادیث الصحیحۃ ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 972 [2] آیۃ الکرسی کے الفاظ درج ذیل ہیں: اَللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ج اَلْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۵ لاَ تَاْخُذُہٗ سِنَۃٌ وَّ لاَ نَوْمٌ ط لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ ط مَنْ ذَالَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَہٗ اِلاَّ بِاِذْنِہٖ ط یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَ مَا خَلْفَہُمْ ج وَ لاَ یُحِیْطُوْنَ بِشَیْئٍ مِّنْ عِلْمِہٖ اِلاَّ بِمَا شَآئَ ج وَسِعَ کُرْسِیُّہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ ج وَلاَ یَئُوْدُہٗ حِفْظُہُمَا ج وَ ہُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ ، ترجمہ :’’اللہ ہی معبود برحق ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو زندہ اور سب کا تھامنے والا ہے جسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند ۔ اسی کی ملکیت میں زمین و آسمان کی چیزیں ہیں ، کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے شفاعت کرسکے وہ جانتا ہے جو ان کے آگے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے وہ اس کی مرضی کے بغیر کسی چیز کے علم کا احاطہ نہیں کر سکتے اس کی کرسی کی وسعت نے زمین و آسمان کو گھیر رکھا ہے اللہ ان کی حفاظت سے نہ تھکتا ہے اور نہ اکتاتا ہے وہ بہت بلند اور بہت بڑا ہے۔‘‘ (سورہ بقرہ ، آیت نمبر255) [3] عدۃ الحصن الحصین ، رقم الحدیث 213