کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 94
شَیْئٍ قَدِیْر کہا تو اس کے سارے گناہ(خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں)معاف کر دئیے جائیں گے۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ 6۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ اَمَرَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((اَنْ اَقْرَأُ بِالْمُعَوِّذَاتِ دُبُرَ کُلِّ صَلاَۃٍ))رَوَاہُ اَحْمَدُ وَاَبُوْدَاؤدَ وَالنِّسَائِیُّ وَالْبَیْہَقِیُّ[1] (صحیح) حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر نماز کے بعد معوذات پڑھنے کا حکم دیا۔ اسے احمد، ابودائود، نسائی اور بیہقی نے روایت کیا ہے۔ وضاحت : معوذات سے مراد قرآن پاک کی آخری دو سورتیں ہیں۔ 7۔ عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زُبَیْرٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم :اِذَا سَلَّمَ مِنْ صَلاَ تِہٖ یَقُوْلُ بِصَوْتِہِ الْاَعْلٰی ] لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَحْدَہٗ لاَ شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَلاَ نَعْبُدُ اِلاَّ اِیَّاہُ لَہُ النِّعْمَۃُ وَلَہُ الْفَضْلُ وَ لَہُ الثَّنَائُ الْحَسَنُ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ۔[ رَوَاہُ مُسْلِمٌ [2] حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز سے فارغ ہوتے، تو بلند آواز سے یہ کلمات ادا فرماتے ’’للہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں وہ وحدہ لا شریک ہے بادشاہی اسی کی ہے حمد اسی کو سزاوار ہے۔ وہ ہرچیز پر قادر ہے اللہ کی توفیق کے بغیر نہ گناہ سے بچنے کی توفیق ہے نہ نیکی کی قوت۔ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ اس کے سوا ہم کسی کی بندگی نہیں کرتے۔ سب نعمتیں اس کی طرف سے ہیں۔ بزرگی اس کے لئے ہے۔ بہترین تعریف کا مالک وہی ہے اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہم اپنا دین اسی کے لئے خالص کرتے ہیں۔ کافروں کو خواہ کتنا ہی ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔‘‘ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ 8۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ رضی اللّٰه عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم کَانَ یَأْمُرُ بِہٰؤُلَآئِ الْکَلِمَاتِ ] اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْبُخْلِ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ الْجُبْنِ وَ اَعُوْذُبِکَ اَنْ اُرَدَّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ فِتْنَۃِ الدُّنْیَا وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ [ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[3] [1] صحیح سنن النسائی ، للالبانی ، الجزء الاول ، رقم الحدیث 1268 [2] کتاب المساجد ، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ [3] مختصر صحیح بخاری ، للزبیدی ، رقم الحدیث 2082