کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 61
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ مُغَفَّلٍ رضی اللّٰه عنہ سَمِعَ اِبْنَہٗ یَقُوْلُ : اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْقَصْرَ الْاَبْیَضَ عَنْ یَمِیْنِ الْجَنَّۃِ اِذَا دَخَلْتُہَا فَقَالَ اَیْ بُنَیَّ سَلَ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَ عُذْ بِہٖ مِنَ النَّارِ فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم یَقُوْلُ((سَیَکُوْنَ قَوْمٌ یَعْتَدُوْنَ فِی الدُّعَاءِ))رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ [1] (صحیح) حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے’’اے اللہ! میں تجھ سے جنت میں داخل ہوتے ہوئے جنت کے دائیں طرف سفید محل کا سوال کرتا ہوں۔‘‘تو کہا، اے بیٹے! اللہ سے(صرف)جنت کا سوال کر(جنت کی باقی تمام نعمتیں از خود اس میں آجائیں گی)۔ اسی طرح آگ سے پناہ مانگ(باقی عذابوں سے پناہ بھی اس میں آجائے گی)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے ’’بعض لوگ دعا کرنے میں زیادتی سے کام لیں گے۔‘‘اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 59 اپنے گناہوں کی سزا دنیا میں پانے کی دعا کرنا مکروہ ہے۔ عَنْ اَنَسٍ رضی اللّٰه عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم عَادَ رَجُلاً مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ قَدْ خَفَتَ فَصَارَ مِثْلَ الْفَرْخِ فَقَالَ لَہٗ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((ہَلْ کُنْتَ تَدْعُوْ بِشَیْئٍ اَوْ تَسْأَلُہٗ اِیَّاہُ ؟))قَالَ : نَعَمْ ! کُنْتُ اَقُوْلُ اَللّٰہُمَّ مَا کُنْتَ مَعَاقِبِیْ بِہٖ فِی الْآخِرَۃِ فَعَجِّلْہُ لِیْ فِی الدُّنْیَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم : سُبْحَانَ اللّٰہِ لاَ تُطِیْقُہٗ اَوْ لاَ تَسْتَطِیْعُہٗ اَفَلاَ قُلْتَ اَللّٰہُمَّ آتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ : قَالَ : فَدَعَا اللّٰہَ لَہٗ فَشَفَاہُ۔ رَوَاہُ مُسْلِمٌ [2] حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی عیادت کی جو بیماری کی وجہ سے چوزے کی طرح ہوگیا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا’’کیا تم(اللہ سے)کوئی خاص دعا یا سوال کیا کرتے تھے؟‘‘ اس نے عرض کیا’’ہاں! میں کہا کرتا تھا یا اللہ! جو سزا تو مجھے آخرت میں دینے والا ہے وہ دنیا میں ہی دے دے(تاکہ آخرت میں محفوظ رہوں)‘‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’سبحان اللہ! تجھ میں اتنی طاقت کہاں یا فرمایا تجھ میں اتنی استطاعت کہاں۔ تونے یوں کیوں نہ کہا ’یا اللہ! دنیا اور آخرت(دونوں جگہ)بھلائی فرما اور آگ کے عذاب سے بچا۔‘‘حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے دعا فرمائی اور اللہ نے اسے اچھا کر دیا۔‘‘اسے مسلم نے [1] صحیح سنن ابن ماجۃ ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 3116 [2] مختصرصحیح مسلم ، للالبانی ، رقم الحدیث 1883