کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 6
الگ ہے۔مثلاً نیا چاند دیکھنے کی دعا، نیا لباس پہننے کی دعا، نیا پھل کھانے کی دعا، شادی اور مقاربت کی دعا، آندھی اور طوفان کے وقت کی دعا، گرج اور چمک کے وقت کی دعا،طلب باراں کی دعا، کثرت باراں سے محفوظ رہنے کی دعا،خسوف اور کسوف(نماز)کی دعا، تعزیت کی دعا، دشمن سے مقابلہ کی دعا۔ کتب احادیث میں مسنون دعاؤں کی تعداد مذکورہ بالا دعاؤں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صحیح احادیث سے ثابت شدہ دعاؤں کی تعداد سات سو کے لگ بھگ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اہل ایمان کو مختلف واقعات کے حوالے سے ستر سے زائد دعائیں سکھلائی ہیں۔ اس سے دعا کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ ایک نظر اسلام کی بنیادی عبادات…نماز‘ روزہ‘زکوٰۃ اور حج پر ڈالی جائے تو صادق المصدوق رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک ’’دعا عبادت کا مغز ہے۔‘‘(ترمذی)کی اصل حقیقت بہت نمایاں ہو کر سامنے آتی ہے۔’’صلوٰۃ‘‘ جس کے لغوی معنی ’’دعا‘‘ ہے واقعتا اول سے آخر تک دعا ہی دعا ہے۔ آغاز وضو میں دعا، وضو کے بعد کی دعائیں، دوران اذان اور اذان کے بعد دعا، اذان اور اقامت کے درمیان دعاؤں کی ترغیب، دوران نماز دعائیں اور نماز کے بعد کی دعائیں۔گویا دعا ہی ساری نماز کی روح اور جان ہے۔ اسی طرح اسلام کی دوسری اہم عبادت روزہ کو لیجئے۔اس بابرکت مہینے میں رجوع الی اللہ توبہ و استغفار اور ادعیہ و اذکار کے ذریعہ جو شخص اپنے گناہ نہ بخشوا سکے اس کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بددعا فرمائی۔(بحوالہ حاکم)[1] اس مہینے کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر جیسی عظیم خیروبرکت کی رات رکھ دی گئی ہے جس کی عبادت ہزار مہینے(73)سال کی عبادت سے افضل قرار دی گئی ہے۔اس رات کی ساری بھلائیاں اور خیر سمیٹنے کے لئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو ایک مختصر اور جامع دعا ہی کی تعلیم دی ہے۔ گویا یہ سارے کا سارا مہینہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے توبہ و استغفار اور ادعیہ و اذکار کے لئے مخصوص کر دیا گیا ہے۔ حج کو اسلام میں بہت اہمیت حاصل ہے۔ جو حضرات حج کی سعادت سے بہر ہ مند ہو چکے ہیں انہیں خوب اندازہ ہے کہ حج پر روانگی سے لے کر گھر واپسی تک، خواہ یہ عرصہ چند مہینوں کا ہو یا چند دنوں کا، حاجی مسلسل ادعیہ و اذکار میں مصروف رہتا ہے۔ گھر سے نکلتے وقت دعا، آغاز سفر اور دوران سفر دعائیں، احرام باندھنے کے بعد مسلسل تلبیہ، مکہ معظمہ میں داخلے کی دعا، بیت اللہ شریف دیکھنے کی دعا، دوران طواف دعائیں، مقام ابراہیم اور ملتزم پر دعائیں، [1] حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ’’ اگر میں لیلۃ القدر پالوں تو کیا کہوں؟ ‘‘آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا’’ کہو! (( اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ))’’یا اللہ! تو معاف کرنے والا ہے معاف کرنے کو پسند کرتا ہے لہٰذا مجھے معاف فرما۔‘‘(ترمذی)