کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 50
سوال کریں گے تو اللہ انہیں عطا فرمائے گا۔‘‘اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 40 نیک اولاد کی دعا والدین کے حق میں قبول ہوتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضي اللّٰه عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ لَیَرْفَعُ الدَّرَجَۃَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِی الْجَنَّۃِ فَیَقُوْلُ یَا رَبِّ ! اَنّٰی لِیْ ہٰذِہٖ فَیَقُوْلُ بِاِسْتِغْفَارِ وَلَدِکَ لَکَ))رَوَاہُ اَحْمَدُ[1] (صحیح) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اللہ تعالیٰ نیک آدمی کا جنت میں درجہ بلندفرماتا ہے تو آدمی عرض کرتا ہے ’’اے میرے رب! میرا درجہ کیسے بلند ہوا؟‘‘ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’تیرے لئے تیرے بیٹے کے استغفار کرنے سے۔‘‘اسے احمد نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 41 خوشحالی اور فراغت میں دعا کرنے والے کی تنگی اور مصیبت کے وقت دعا قبول ہوتی ہے عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضي اللّٰه عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم((مَنْ سَرَّہٗ اَنْ یَسْتَجِیْبَ اللّٰہُ لَہٗ عِنْدَ الشَّدَائِدِ فَلْیُکْثِرِ الدُّعَاءِ فِی الرَّخَائِ))رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ [2] (حسن) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ مصیبتوں اور تکلیفوں میں اللہ اس کی دعا قبول فرمائے اسے چاہئے کہ خوشحالی کے وقت کثرت سے دعا کیا کرے۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 42 روزہ دار کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضي اللّٰه عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم((ثَلاَ ثُ دَعْوَاتٍ لاَ تُرَدُّ : دَعْوَۃُ الْوَالِدِ وَ دَعْوَۃُ الصَّائِمِ وَ دَعْوَۃُ الْمُسَافِرِ))رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ [3] (صحیح) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’تین آدمیوں کی دعا رد نہیں کی جاتی۔باپ کی، روزہ دار اور مسافر کی۔‘‘ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 43 بیمار کی دعا قبول کی جاتی ہے۔ [1] مشکوۃ المصابیح ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 2354 [2] صحیح سنن الترمذی ، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 2692 [3] سلسلۃ احادیث الصحیحۃ ، للالبانی ، الجزء الرابع ، رقم الحدیث 1797