کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 46
مسئلہ نمبر 26 اذان اور اقامت کے درمیان دعا قبول کی جاتی ہے۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللّٰه عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((الدُّعَاءِ لَا یُرَدُّ بَیْنَ الْاَذَانِ وَ الْاِقَامَۃِ))رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ [1] (صحیح) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’اذان اور اقامت کے درمیان دعا ردنہیں کی جاتی۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 27 سجدہ میں دعا قبول کی جاتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ((اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہٖ وَ ہُوَ سَاجِدٌ فَاکْثِرُوا الدُّعَاءِ))رَوَاہُ مُسْلِمٌ [2] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’سجدہ کی حالت میں بندہ اپنے رب سے بہت قریب ہوتا ہے لہٰذا سجدہ میں کثرت سے دعا کیا کرو۔‘‘اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 28 جمعہ کے دن(کسی ایک گھڑی میں)دعا قبول کی جاتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم ذَکَرَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَقَالَ((فِیْہِ سَاعَۃٌ لاَ یُوَافِقُہَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَ ہُوَ قَائِمٌ یُصَلِّیْ یَسْئَالُ اللّٰہَ تَعَالٰی شَیْئًا اِلاَّ اَعْطَاہُ اِیَّاہُ وَ اَشَارَ بِیَدِہٖ یُقَلِّلُہَا)) رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ [3] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا اور فرمایا’’اس میں ایک گھڑی ایسی ہے جس میں کوئی مسلمان کھڑا نماز پڑھ رہا ہو اور اللہ سے کچھ مانگے تو اللہ اس کو عنایت فرما دیتا ہے اور ہاتھ کے اشارے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ وہ ساعت مختصر سی ہے۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 29 اذان کے بعد دعا قبول کی جاتی ہے۔ مسئلہ نمبر 30 میدان جنگ میں مسلمانوں اور کافروں کے لشکر جب باہم گتھم گتھا [1] صحیح سنن الترمذی ، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 2843 [2] مختصر صحیح مسلم، للالبانی ،رقم الحدیث 298 [3] مختصر صحیح بخاری، للزبیدی ، رقم الحدیث 521