کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 45
اَ لْاَوْقَـــاتُ الَّتِیْ تُسْتَجَابُ فِیْہَا الدُّعَاءِ قبولیت دعا کے اوقات مسئلہ نمبر 25 رات کے آخری حصہ میں دعا قبول کی جاتی ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَرضی اللّٰه عنہ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللّٰه علیہ وسلم قَالَ((یَنْزِلُ رَبُّنَا تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی کُلَّ لَیْلَۃٍ اِلَی السَّمَآئِ الدُّ ْنیَا حِیْنَ یَبْقٰی ثُلُثُ اللَّیْلِ الْآخِرُ یَقُوْلُ مَنْ یَدْعُوْنِیْ فَاسْتَجِیْبَ لَہٗ مَنْ یَسْأَلْنِیْ فَأُعْطِیَہٗ مَنْ یَسْتَغْفِرُنِیْ فَاغْفِرَلَہٗ))رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ہمارا رب(ہررات)جب آخر تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو آسمان دنیا پر اترتا ہے اور فرماتا ہے’’ کون مجھ سے دعا کرتا ہے میں اس کی دعا قبول کروں۔ کون مجھ سے مانگتا ہے میں اس کو دوں۔ کون مجھ سے گناہوں کی معافی چاہتا ہے کہ میں اس کے گناہ معاف کردوں۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ حَدَّثَنِیْ عَمْرُو بْنُ عَبَسَۃَ ص اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ((یَقُوْلُ اَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ فِیْ جَوْفِ اللَّیْلِ الْآخِرِ فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَکُوْنَ مِمَّنْ یَذْکُرُ اللّٰہَ فِیْ تِلْکَ السَّاعَۃِ فَکُنْ))رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ [2] (صحیح) حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ’’ رات کے آخری حصہ میں رب اپنے بندے کے بہت قریب ہوتا ہے۔لہٰذا اگر اس وقت اللہ کو یاد کرنے والوں میں شامل ہونے کی ہمت کر سکو تو کرو۔‘‘اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [1] مختصرصحیح بخاری ، للزیبدی ، رقم الحدیث 606 [2] صحیح سنن الترمذی ، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 2833