کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 154
کرنے لگے۔ ان میں سے ایک اس قدر غصے میں تھا کہ اس کا منہ پھول گیا اور چہرے کا رنگ بدل گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر یہ کہے تو اس کا سارا غصہ چلا جائے۔‘‘ ایک شخص یہ سن کر اس کے پاس گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد سے آگاہ کرکے کہا’’شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔‘‘اس(جھگڑالو آدمی)نے جوا ب دیا’’کیا تم میرے اندر کوئی خرابی محسوس کرتے ہو یا میں دیوانہ ہوں(یہاں سے)چلے جاؤ۔‘‘اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 230 چھینک لینے والے کو ’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ‘‘ اور سننے والے کو ’’یَرْحَمُکُمُ اللّٰہُ‘‘ کہنا چاہئے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((اِذَا عَطَسَ اَحَدُکُمْ فَلْیَقُلْ ]اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ[ وَالْیَقُلْ لَہٗ اَخُوْہُ اَوْ صَاحِبُہٗ ]یَرْحَمُکَ اللّٰہُ[ فَاِذَا قَالَ لَہٗ ]یَرْحَمُکَ اللّٰہُ[ فَلْیَقُلْ ]یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ[))رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ[1] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جب تم میں سے کوئی آدمی چھینک لے تو اسے((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ))’’تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔‘‘ کہنا چاہئے اور اس کے(سننے والے)بھائی یا ساتھی کو((یَرْحَمُکَ اللّٰہ))’’اللہ تجھ پر رحم فرمائے۔‘‘ کہنا چاہئے اور جب وہ(سننے والا)یَرْحَمُکَ اللّٰہ کہے تو چھینک لینے والے کو((یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ))’’اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارا حال درست کرے۔‘‘ کہنا چاہئے۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 231 غیر مسلم کی چھینک پر صرف یَھْدِیُکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ کہنا چاہئے۔ عَنْ اَبِیْ مُوْسٰی رضی اللّٰه عنہ قَالَ : کَانَ الْیَہُوْدُ یَتَعَاطَسُوْنَ عِنْدَ النَّبِیِّ صلي اللّٰه عليه وسلم یَرْجُوْنَ اَنْ یَقُوْلَ لَہُمْ یَرْحَمُکُمُ اللّٰہُ فَیَقُوْلُ ]یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ[۔ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ [2] (صحیح) حضرت ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھینک لیتے اور امید کرتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے((یَرْحَمُکَ اللّٰہ))’’اللہ تم پر رحم فرمائے‘‘ کہیں‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے((یَہْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَ یُصْلِحُ بَالَکُمْ))’’اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے حال کی اصلاح کرے۔‘ کہتے۔‘‘ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ [1] کتاب الادب ، باب اذا عطس کیف یشمت ،رقم الحدیث 126 [2] صحیح سنن الترمذی ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 2201