کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 150
عَنْ بُرَیْدَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلي اللّٰه عليه وسلم اِذَا دَخَلَ السُّوْقَ قَالَ((بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَیْرَ ہٰذِہِ السُّوْقِ وَ خَیْرَمَا فِیْہَا وَ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّہَا وَ شَرِّمَا فِیْہَا اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ اَنْ اُصِیْبَ فِیْہَا صَفَقَۃً خَاسِرَۃً))رَوَاہُ الْبَیْہَقِیُّ[1] حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بازارمیں داخل ہوتے تو فرماتے((اللہ کے نام سے(میں بازار میں داخل ہوتا ہوں)یا اللہ! میں تجھ سے اس بازار کی اور جو کچھ اس بازار میں ہے‘ اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں اور اس بازار کے شر سے اور جو کچھ بازار میں ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ یا اللہ!میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ اس بازارمیں کوئی گھاٹے کا سودا پاؤں۔))اسے بیہقی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 220 مرغ کی آواز سن کر اللہ کا فضل اور گدھے کی آواز سن کر اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ اِذَا سَمِعْتُمْ صِیَاحَ الدِّیْکَۃِ فَسْئَلُوا اللّٰہَ مِنْ فَضْلِہٖ فَاِنَّہَا رَأَتْ مَلَکًا وَاِذَا سَمِعْتُمْ نَہِیْقَ الْحِمَارَ فَتَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ فَاِنَّہٗ رَأَتْ شَیْطَانًا))مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ [2] حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جب مرغ کی آواز سنو تو اللہ کا فضل مانگو۔ کیونکہ وہ(اس وقت)فرشتے کو دیکھتا ہے اور جب تم گدھے کی آواز سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ(اس وقت)شیطان کو دیکھتا ہے۔‘‘اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 221 کتے کے بھونکنے پر بھی اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے۔ عَنْ جَابِرٍرضی اللّٰه عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم((اِذَا سَمِعْتُمْ نُبَاحَ الْکِلاَبِ وَ نَہِیَقَ الْحُمُرِ بِاللَّیْلِ فَتَعَوَّذُوْا بِاللّٰہِ فَاِنَّہُنَّ یَرَیْنَ مَالاَ تَرَوْنَ))رَوَاہُ اَبُوْدَاؤٗدَ[3] (صحیح) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’جب تم رات کے وقت کتے کو بھونکتا اور گدھے کی آواز سنو تو اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ(رات کے وقت کتے اور گدھے)وہ چیزیں دیکھتے ہیں [1] مشکوۃ المصابیح ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 2456 [2] اللؤلؤ والمرجان ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 1740 [3] صحیح سنن ابی داؤد ، للالبانی ، الجزء الثالث ، رقم الحدیث 4256