کتاب: دعا کے مسائل - صفحہ 139
خطاکار وہ ہیں جو توبہ کرتے ہیں۔‘‘اسے ابن ماجہ اور دارمی نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 197 توبہ نہ کرنے سے انسان کا دل سیاہ ہو جاتا ہے۔ عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رضی اللّٰه عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((اِنَّ الْمُؤْمِنَ اِذَا اَذْنَبَ کَانَتْ نُکْتَۃٌ سَوْدَائُ فِیْ قَلْبِہٖ فَاِنْ تَابَ وَ نَزَعَ وَاسْتَغْفِرَ صُقِلَ قَلْبُہٗ وَ اِنْ زَادَ زَادَتْ، فَذٰلِکَ الرَّانُ الَّذِیْ ذَکَرَہُ اللّٰہُ تَعَالیٰ فِیْ کِتَابِہٖ ﴿کَلاَّ بَلْ رَّانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ﴾))رَوَاہُ اَحْمَدُ وَابْنُ مَاجَۃَ[1] (حسن) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’مؤمن جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑ جاتا ہے اگر توبہ و استغفار کرے تو اس کا دل صاف کردیا جاتا ہے اور اگر مزید گناہ کرتا چلا جائے تو سیاہ نکتہ بڑھتا رہتا ہے اور یہی وہ زنگ جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یوں ذکر کیا ہے’’ہرگز نہیں بلکہ ان کے اعمال کے باعث اللہ نے ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے۔‘‘اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 198 رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجلس میں سو سو مرتبہ استغفار کرتے تھے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ اِنَّ کُنَّا لَنَعُدُّ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلي اللّٰه عليه وسلم فِی الْمَجْلِسِ یَقُوْلُ ] رَبِّ اغْفِرْلِیْ وَ تُبْ عَلَیَّ اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الْغَفُوْرُ[ مِائَۃَ مَرَّۃِ۔ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤٗدَ وَ ابْنُ مَاجَۃَ[2] (صحیح) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توبہ و استغفار گنتے تھے ایک مجلس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو مرتبہ((اے میرے رب! مجھے بخش دے میری توبہ قبول فرما تو یقینا توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔))کہتے تھے۔ اسے احمد‘ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ نمبر 199 مشرک کی توبہ اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک وہ شرک نہ چھوڑے۔ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ رضی اللّٰه عنہ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰه صلي اللّٰه عليه وسلم((اِنَّ اللّٰہَ تَعَالیٰ لَیَغْفِرُ [1] صحیح سنن ابن ماجۃ ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 3422 [2] صحیح سنن ابن ماجۃ ، للالبانی ، الجزء الثانی ، رقم الحدیث 3075